جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

امریکی فوج نے افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلیے ٗ صدرجوبائیڈن

datetime 15  جولائی  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر جوبائیڈن نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک فوج کا مکمل انخلا ہوگا اور اس وقت امریکا کے 2 ہزار 500 اور نیٹو کے 7 ہزار 500 فوجی موجود تھے اور تاحال اکثر فوجی واپس جا چکے ہیں اور طالبان کی جانب سے پیش قدمی جاری ہے۔افغانستان میں جنگ کے باعث شدید بحران کا سامنا ہے جبکہ امن کے قیام کے لیے سرکاری فورسز

کارروائیاں کر رہی ہیں لیکن طالبان نے کئی اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کووڈـ19 کے کیسز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ نے دو روز قبل کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے ملک بھر میں مسائل شدید تر ہوگئے ہیں اور مالی امداد جاری رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو اس جنگ کے خاتمے اور افغانستان کو اپنا مستقبل خود تیار کرنے کے لیے مناسب وقت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جن مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے وہ مقاصد حاصل کرلیے، ہم افغانستان میں قومی تعمیر کے لیے نہیں گئے تھے اور یہ افغان عوام کا حق اور ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنے مستقبل اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ ملک کس طرح چلانا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں، جس میں اسامہ بن لادن کو مارنا، القاعدہ کو کمزور کرنا اور امریکا پر مزید حملے ہونے سے روکنا شامل ہے۔جوبائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکیوں کی ایک اور نسل کو ناقابل فتح جنگ میں

قربان کرنے کے بجائے افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغان فوج کے پاس طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جن مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے وہ مقاصد حاصل کرلیے، ہم افغانستان میں قومی تعمیر کے لیے نہیں گئے تھے اور یہ افغان عوام کا حق اور ذمہ داری ہے کہ وہ خود

اپنے مستقبل اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ ملک کس طرح چلانا ہے۔جو بائیڈن نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحارب فریقین کے درمیان ایک جامع سیاسی تصفیہ کرنے میں مدد کریں، افغان حکومت کو طالبان کو پرامن طریقے سے ساتھ رہنے دینے کے لیے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و سلامتی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ وہ طالبان کے ساتھ پرامن رہنے کے طریقہ کار پر کام کرنا ہے کیونکہ پورے ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے افغانستان میں ایک متفقہ حکومت بننے کا امکان بہت کم ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…