سپریم کورٹ کا 31سال سے عارضی کلرک کو فوری مستقل کرنے کا حکم

  جمعہ‬‮ 9 جولائی‬‮ 2021  |  23:39

سلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں 31 سال سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کرنے والے سید بخت بیدار شاہ کو کلرک کی پوسٹ پر فوری مستقل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ملازمت کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نےایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اے جی صاحب 31 سال تک درخواست گزار کومستقل کئے بغیر کیسے رکھا گیا؟چیف منسٹرز کہتے رہے اور آپ انہیں ایکسٹینشن دیتے رہے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی


نے کہا 31 سال سے ملازمت میں کبھی 6 ماہ تو کھبی سال کی ایکسٹینشن دی جاتی رہی۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ پوسٹ ایڈورٹائزمنٹ ہوئی تو ٹائپنگ ٹیسٹ میں شامل ہونے کا کہا لیکن نہیں ہوئے، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ ٹائپنگ اسپیڈ 25 درکار تھی اور تشکیل کردہ کمیٹی نے ٹیسٹ لیا تو 29 تھی۔وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ متعلقہ پوسٹ کیلئے تعلیم میٹرک درکار تھی جبکہ میں بی اے پاس ہوں۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں 31 سال سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کرنے والے سید بخت بیدار شاہ کو کلرک کی پوسٹ پر فوری مستقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئیمعاملہ نمٹا دیا ہے۔ قبل ازیں ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی ملازمت مستقلی مسترد کی تھی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے نیڈھڈوچہ ڈیم کی زمین پر پلاٹ بنا کر خریدو فروخت کرنے کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پرایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر اور زمین کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئیپنجاب حکومت،  بحریہ ٹاون اور ڈی ایچ اے کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎