جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

پولیس کو رونما ہونے والے واقعے کا اس لئے نہیں بتایا کیونکہ۔۔۔اسلام آباد میں تشدد کا شکار لڑکے کا پولیس کوبیان وزیر اعظم نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا، بڑا حکم جاری کردیا

datetime 8  جولائی  2021 |

اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لڑکی اور لڑکے پر تشدد کی تحقیقات کا گھیرا مزید تنگ ہو گیا اور واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔لڑکے لڑکی پر تشدد کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم عثمان مرزا اور اس کے دو ساتھیوں کو پولیس نے گزشتہ روز گرفتار کر لیا تھا ،واقعہ ایف آئی آر میں نامزد

چوتھے ملزم کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے موبائل سے ویڈیوز بھی برآمدکی گئی ہیں ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیاگیا ہے اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد پولیس قاضی جمیل الرحمان کا کہنا ہے واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو سامنے لایا جائیگا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر لڑکی اور لڑکے پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے تشدد کرنے والے بااثر ملزم عثمان مرزا سمیت 3 افرادکو گرفتار کر لیاتھا۔اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص نے نوجوان لڑکے اور لڑکی کوتشدد کا نشانہ بنایاتھالوگوں نے روکنے کی کوشش کی تو ملزم نے نوجوان لڑکے لڑکی کو مغلظات بکیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔دوسری جانب تشدد کا شکار لڑکے نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا۔پولیس ذرائع کے مطابق لڑکے کا کہنا ہے کہ وہ خوفزدہ تھا اس لیے پہلے پولیس کو مطلع نہیں کیا،متاثرہ لڑکے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے

جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ نوجوان سامنے آنے سے گریز کر رہا ہے چونکہ اسے جان سے مارنے کی بھی دھمکیاں دی گئی ہیں اس لیے وہ کارروائی کرنے سے بھی ہچکچا رہا ہے۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے آئی جی پولیس سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکی پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لیا اور رپورٹ وزیراعظم آفس بھجوانے کی ہدایت کی ، وزیراعظم نے کہا کہ تمام ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے پولیس کی تمام تر توانائیاں صرف کی جائیں ، اس کیس کو مثال بنایاجائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…