قومی اسمبلی میں ججز اور جرنیلوں کے ٹیکسوں کی تفصیلات منظرعام پر لانے کا مطالبہ کر دیا گیا

  بدھ‬‮ 23 جون‬‮ 2021  |  18:28

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پینل آف چیئرمین کے ممبر امجد نیازی نے کہا ہے کہ اب تک تقاریر کا ٹائم ختم ہو گیا ہے اب طے کر لیں کہ کس طرح سے اجلاس چلانا ہے اس پر چیف ویپ عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کو بولنے کا موقع دیا جائے مسلم لیگ ن کے مرتضٰی جاوید عباسی نے کہا کہ سب کوموقع ملنا چاہیے تاکہ سب اپنے علاقے کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی بات کر سکیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی شاہد خاقان عباسی نے کہا نے کہا کہ ایوان


عوام کی بات کرنے کے لیے ہے یہاں بات عوام کی ہو رہی ہے ایوان کو چلانا سپیکر کا کام ہے یہ کامیاب ناکامی سپیکر قومی اسمبلی کی ہوتی ہے یہاں حکومتی بینچوں سے اپوزیشن لیڈر پر کتابیں ماری گئیں اسی ایوان میں سپیکر صاحب کو جوتا مارنے کی دھمکی دی گئی لیکن سپیکر اس کا کچھ نہیں کر سکے سال گزر جاتا ہے لیکن عوام کی بات نہیں ہوتی تحریک آتی ہیں لیکن ان پر ایوان میں بات نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی ایوان چلانے میں ناکام ہیں جو کتاب جمہوریت کو ماری گئی تھی ایک دن یی ٹی وی پر چلے گا کہ یہ جمہوریت ہے ہمیں یہی سننا پڑے گا جن لوگوں نے یہ کیا ہے ان میں 90فی صد لوگوں کو اسمبلی نہیں ہونا چاہیے تھا ملک میں صدارتی نظام کی بات ہوئی لیکن ہمارا آئین پارلیمانی ہے جو صدراتی نظام کی بات کرے گا اس پر بات جرنا میرا حق ہے، بجٹ میں غریب آدمی کی کوئی بات نہیں ہے،آج مسئلہ یہ نہیں کہ خواتین مختصر کپڑے پہنتی ہیں تو مردوں کے جذبات ابھرتے ہیں مسئلہ مہنگائی کا ہے کیا وزیر خزانہ قیمتیں کم کرسکتے ہیں،، بجلی گیس،پیٹرول کی قیمتیں کم کر سکتے ہیں بجٹ کتاب کہہ رہی ہے کہ پیٹرول 30 روپے بڑےگا۔ سرکاری ملازمین ہمارے ملازمین ہیں آج ان کو 10 فی صد ایڈہاک بڑھا دیں لیکن یہ اضافہ قیمتوں کے بڑنے سے کم ہے،اب سرکاری ملازمین سطح غربت سے نیچے گئے ہیں،وزیر دفاع نے کہا ہے افراط زر ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کا بجٹ 2018 سے کم ہے اس سال 5800 ارب روپے کا تخمینہ ہےڈالر بھی گر گیا ہے، ایف بی آر بھی ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے گا، وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ملک ان ڈائریکٹ ٹیکس سے چلتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ ڈائریکٹ ٹیکس سے چلتے ہیں جن کے پاس کروڑوں کی گاڑی،گھر اور بجلی کا بل تین لاکھ آتا ہے لیکن وہ ٹیکس نہیں دیتے اس ملک میں صرف پارلیمنٹیرینز کے ٹیکس دینے کی تفصیلاتاخبارات میں شائع کی جاتی ہیں،باقی ججز جرنیلوں کے ٹیکسوں کی تفصیلات سامنے نہیں آتی لیکن حکومت کے پاس سب کا ریکارڈ ہے، بتائیں کون ٹیکس دیتا ہے 2018 میں جی ڈی پی 213 ارب تھی اور آج 270 ارب روپے ہوگی یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن قرضے دوگنے ہو جائیں گے اگر اتنی گندم اچھی ہوئی ہے تو باہرسے گندم کیوں امپورٹ کر رہے ہیں چینی،کاٹن باہر منگوائی جارہی ہے بنمپر کراپ ہونے کے باوجود ہم امپورٹ کر رہے ہیں، اگر چور کا لفظ حذف کر دیا گیا تو آدھا ریکارڈ اسمبلی کا حذف ہو جائے گا، غلط بیانیاں ہر وزیر کر رہا ہے اور بار بار کر رہے ہیں اور خود یقین کر لیتے ہیں جس وزیر کو ناکامی کی وجہ سے نکالے گئے اس پر ہمیںلیکچر دے رہے ہیں، تین تین سال وزیر رہے وہی باتیں آج کر رہے ہیں جو پہلے دن کر رہے تھے،سب سے کامیاب وزیر خارجہ رہے ہیں جن کو نہیں نکالا گیا جو نالائق ہے اس کو کوئی بھی وزارت دے دیں اس نے نالائق ہی رہنا ہے، انہوں نے کہا کہ میرے خلاف ان کو کچھ نہیں ملا، ملک میں 24ہزار بجلی بن رہی ہے جب کہ ڈیمانڈ 29 ہزارتھی 32 سو میگا واٹ ایل این جی نہ ہوتی تو نہ ملتی تین پلانٹ ہم نے لگائے جو ایل این جی پر چلتے ہیں 36 کا منصوبہ کوئل پر لگا ہوا ہے جو سستی بجلی دیے رہا 10700 میگاواٹ نواز شریف کے لگائے منصوبوں سے مل رہی ہے یہ ہمارا کام تھا کوئی احسان نہیں کیا، سٹیٹ بینک کی رپورٹ آئی ہے کہ ایل این جی کے بجلی کےمنصوبوں سے تین سال میں 234 ارب روپے پاکستان کا بچا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے خارجہ پالیسی کیا ہے بھارت کے حوالے سے کشمیر،افغانستان کے بارے میں کیاہے چائنہ کے حوالے سے کیا پالیسی ہے ملکی خارجہ پالیسی کا ہمیں غیر ملکی میڈیا سے پتہ چلتا ہے ملک کا کوئی مسلہ ہو تو اس ایوان کو بتایا جائے۔وفاقی وزیر برائےایوی ایشن سرور خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے حکومت پر الزام لگائے ہیں جس طرح کی ہلڑ بازی کی گئی جس طرح سے ایک منتخب وزیراعظم کو پہلے دن سلیکیڈ کہا گیا تقریر نہیں کرنی دی گئی تھی چاروں بجٹ میں وزراء خزانہ کو بات نہیں کرنی دی گئی مشترکہ اجلاسوں میں بھی ہلڑ بازی کی گئی جس طرح کا رویہ اختیارکیا گیا اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے جو کچھ ہوا اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے دو حکومتی ارکان زخمی ہوئے ہیں لیکن الزام حکومت پر دیا جارہا ہے نواز حکومت کا کیا کردار رہا ہے، ن لیگ کی طرف سے بے نظیر بھٹو کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا اور سپریم کورٹ پر حملہ کیا گیا یہ ان کی تاریخ ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میںجب کرونا وائرس جیسا مرض پوری دنیا کو اپنے لپیٹ لیا ہے پاکستان ائیر لائنز کو پانچ سو ارب کا خسارہ ہے،کسی کو نوکری سے نہیں نکالا گیا،دس فیصد اضافہ بھی کیا ہے،جب معاشی حالات ٹھیک ہوں گے تو مزید بھی بہتری آئے گی، ہم نے 16 لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگا دلوایا ہے، 1970 کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا تھا1994 میں ملک سے زیادتی کی گئی کہ آئی پی ہیز کو مہنگے ٹھیکے دیئے گئے تھے ن لیگ کی پنجاب میں پالیسی ایسی تھی کہ ہر چیز امپورٹ کی جائے زراعت کو مزید سبسڈی کی ضرورت ہے، ن لیگ چاہتی ہے کہ ایسا پاکستان ہو جہاں لوٹ مار،اور ٹی ٹیاں لگائی جائیں لیکن نئے پاکستان میں ایسا نہیں ہو گا، اراضی سنٹر نے کرپشنکے ریکارڈ توڑے ہیں میری زمین جعلی طریقے سے کسی کو دے دی گئی میں خود متاثر ہوا ہوں اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ جب ان پر مشکل وقت آتا ہے تو یہ پاوں پڑ جاتے ہیں جب اقتدار آتاہے توگلے پڑجاتے ہیں۔حکومتی رکن و چیف وہپ عامر ڈوگر نے کہا کہ بڑے بڑے بجٹ دیکھے ہیں کئی بار اسمبلی کا ممبر رہا ہوں،زندگی میں ایسا بجٹپہلی بار دیکھا ہے عام آدمی نے اس کو قبول کیا ہے وزیر اعظم کی لگن کی وجہ سے ملک ترقی کی طرف گامزن ہے جو ڈیم بن رہے ہیں ان کے لیے فنڈز رہے ہیں وزیراعظم نے بلین ٹری کا منصوبہ ہم نے شروع کیا 18 ارب موسمیاتی تبدیلی کے رکھے ہیں پوری دنیا عمران خان کی پالیسوں کا فالو کر رہی ہے زندگی میں پہلی دفع پی ایسڈی ہی میں زیادہ پیسے بلوچستان کے لیے رکھے ہیں زراعت ہمارا فوکس ہے چھوٹے کاشتکاروں کے تین لاکھ روپے کے بلا سود قرضے دیئے جائیں گے 16 لاکھ ٹیوب ویل سولر پر لگائے جائیں گے اپوزیشن انشاء اللہ 2023 میں بھی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فی صد اضافہ ہوناچاہیے قرآن مجید کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے 6500 ارب روپے سندھ کو گیا ہے لیکن وہ ہیسا کہاں گیا اس کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے ملتان میانوالی روڈ بن رہی ریڈیو پاکستان ملتان میں آڈیٹوریم بنایا جارہا ہے جن بڑے ڈاکوؤں کو پکڑا جاتا ہے تو وہ عدالتوں سے چھوٹ جاتا ہے ہائی کورٹ کے جج کینامزدگی کا طریقہ کار سول جج سے آنا چاہیے خواجہ سعد رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوے کہا ہے کہ کوئی ایسا بجٹ جس سے بیروزگاری اور بھوک ختم نہ ہو وہ ناکام بجٹ ہی کہلائے گا۔ دھرنا دے کر آپکی حکومت نہیں گرائیں گے۔ آپ نے پاکستان کی ریاست کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ جہانگیر ترین کے لیے علی ظفر کو ٹاسک دیا گیا جبکہنیب موجود ہے۔ حکومتی بندے پکڑے جائیں تو نوے دن کے اندر رہا ہو جاتے ہیں۔ مہربانی کریں آپ قومی ہم آہنگی کی بات کریں کرپشن کا چورن اب مزید نہیں بکنے والا نہیں۔ ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔ آپ اپوزیشن سے سلام کرنے اور سیدھے منہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ کیا آپ نے اکیلے ہی ملک چلانا ہے۔افغانستان کیموجودہ صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور سیکورٹی ادارے اس پر بریفنگ دیں۔ افغانستان میں صورت حال تبدیل ہو رہی ہے اس س پر پاکستان کی پالیسی کیا ہے دنیا ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہے اور آئٹم پروگرام ختم کروانا چاہتے ہیں لیکن ہم آپس میں لڑ رہے ہیں، انہوں نے کہا حکومت کے پاس جو وقت بچا ہے وہ گالی دینےکی بجائے پاکستان کے لیے استعمال کرے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ ابھی نہیں بنے تھے ان کا انٹرویو سنا تو وہ کہہ رہے تھے کہ پی ٹی آئی نے معیشت تباہ کر دی ہے لیکن بعد میں وزیر خزانہ بن گئے ہیں سینئر وزیر کہہ رہے کے پی کے میں غربت ختم ہو گئی، شہباز شریف نے میثاقِ معیشت کی بات کی آپنے مذاق اڑایا لیکن معیشت ہی مسئلہ ہے اس ملک میں اٹھارہ وزیر اعظم کے ساتھ جو ہوا وہ آپ کے ساتھ بھی ہو گا۔ 92 کروڑ روپے وزیر اعظم کا خرچہ ہے،گاڑیاں سستی خریدیں پھر مہنگی خریدی ہیں،قومی اثاثے گروی رکھنے کی کوشش کی جارہی ہیں لیکن ہم ایسا کرنے نہیں دیں گے، بجٹ پاس نہیں ہوا لیکن پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے،گندم،گھی چینی امپورٹ کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ بنمپر کراپ ہوئی ہیں لیکن امپورٹ کر رہے ہیں ٹڈی دل فصلوں کو نقصان دے رہی تھی لیکن حکومت دیکھتی رہی، انہوں نے کہا کہ کسان کے گھر میں اناج نہیں ہے کن کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے کس کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے لوگوں کے گھر کے خرچے پورے نہیں ہوریےہیں،پاکستان ریلوے کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ہمارے دور میں 18 ارب روپے سالانہ ریلوے کی آمدنی تھی، ہماری محنت کا بیڑا غرق کر دیا گیاہے ہم نے 120 ارب روپے ریلوے کو دیئے تھے 11 نئے ریلوے اسٹیشن میں ایک دکان لیز پر نہیں دے سکے،نئے لائن پر ٹرین نہیں چل رہی،مسافر ٹرینیں نہیں چلائی جارہی،ہم جو لوکو موٹو لائےتھے، انہوں نے پیسے کمائے ہیں آپ نے کوئی نیا لوکو موٹو نہیں خریدا تین سال میں ایم ایل ون میں کچھ نہیں کیا، ایسے بجٹ کو نکام بجٹ ہی کہا جاسکتا ہے ہم دھرنا نہیں دیں گے کہ آپ کی حکومت گرائیں گے، آپ کے لوگ پکڑے جائیں تو جلدی باہر آ جائیں لیکن ہمیں باہر نہیں ا،نے دیا جاتا، ہم نے مارشل لاؤں کا مقابلہ کیا ہے،کئی بارجیل جا چکے ہیں،قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ تقریر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ آج ہمارے ساتھی ممبر قومی اسمبلی خورشید شاہ،خواجہ آصف کو بھی اجلاس میں ہونا چاہیے اس حکومت کا ہنی مون پریڈ ختم ہو گیا ہے لیکن وفاقی وزیر غلط بیانی کر رہے ہیں گزشتہ دور میں جو منصوبے لگےہیں تو اس وجہ سے آمدنی بڑھی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دس فیصد بڑھائی ہے دوسری طرف ہاتھ کیا ہے جی پی فنڈ ہے اس کے اوپر دس فیصد کٹوتی لگائی ہے جس کی پانچ لاکھ سے زیادہ ہے وزیر خزانہ نے جو اعلان کیا تھا کہ جو بجٹ میں کام کرتے ہیں ان کو بونس دیں گے۔ مہر غلام لالی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میںبجٹ تقریر میں کہا کہ چند پہلے جو اسمبلی میں ہوا ہے وہ بہت افسوس ناک ہے امید ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا ہم آج تک اسلامی قوانین کو ریاست میں نافذ نہیں کر سکے اسلامی قوانین کو نافذ کرنی کے لیے کمیٹی بنائی جائے انصاف سب کا حق ہے پاکستان دینا میں 128 سے 120 نمبر پر ہیں تو کس طرح سے لوگ اپنے آپ کو محفوظ کریں گےگزشتہ دنوں میں سفیر کو نکالنے کی باتیں ہو رہی تھیں اور کہا جارہا تھا کہ ہمارا رابطہ ختم ہو جائے گا اگر اللہ سے رابطہ رہے گا تو ہمارا کسی سے رابطہ ختم نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ زراعت میں جدید بیج کسان تک نہیں پہنچ رہے ہیں اور نہ کوئی رسرچ ہو رہی ہے کسانوں کو سولر پینل پر لیکر جایا جائے اور وہ اپنے ٹیوب ویل پر 80فیصد حکومت اور 20 فی صد کسان خود کرے،کسان کو گنے کی قیمت 250 روپے ملنی چاہیے،کھاد کی قیمتیں بہت ذیادہ ہیں ہمارا ضلع نیا بنا ہے وہاں پر تحصیل ہیڈکوارٹر پر ہسپتال بنایا جائے،میرے علاقے میں گیس،پانی،بجلی کے منصوبے شروع کیے جائیں میڈیکل کالج میرے ضلع میں بنایا جائے انہوں نے کہا کہ سکول اپ گریڈ ہونے والے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎