اپوزیشن کے17 اراکین اسمبلی نے گرفتاری دے دی

  پیر‬‮ 21 جون‬‮ 2021  |  15:37

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے 16اپوزیشن ارکان نے کوئٹہ کے بجلی روڈ تھانے میں جاکر گرفتاری دے دی پولیس نے اراکین اسمبلی کو شامل تفتیش کرتے ہوئے گرفتاری التواء میں رکھ دی تاہم اپوزیشن ارکان نے واپس جانے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی ایف آئی آر میں نامز د بلوچستان اسمبلی کےاپوزیشن ارکان اجتماعی گرفتاریاں دینے کے لئے کوئٹہ میں ایم پی اے لاجز میں اکھٹے ہوئے اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری نے اسمبلی ، ایم پی اے لاجز اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے


میں لیکر سڑکوں کو خار دار تاریں اور کنٹینر لگا کر بند کردیا اپوزیشن ارکان جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، بی این پی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ،بی این پی کے پارلیمانی لیڈرملک نصیر احمد شاہوانی اور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زیرے کی قیادت میں جلوس کی شکل میں بجلی روڈ تھانہ روانہ ہوئے اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت نے اسمبلی کے اردگرد کے علاقے کو بلوچستان کا مقبوضہ علاقہ بنادیا ہے اپوزیشن اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے لیکن اسکی بھی اجازت نہیںارکان اسمبلی تھانے جارہے ہیں لیکن رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہی نہتے سیاسی کارکنوں کو روکنے کیلئے بکتر بند گاڑیاں اور مسلح دستے لگادئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی نفری تعینات کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ حکمران اپنے آپ کو فرشتے اور اپوزیشن کو غنڈہ کہنے کی روایت ترک کریں سیاسی کارکنوں کو انکے آئینی حق سے آمریت میں بھی محروم نہیں کیا گیا اپوزیشن کے دروازے بند کئے تو گیٹ تو ڑ دیں گے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں پر گاڑی چڑھا کر ان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اپوزیشن پر گاڑی چڑھاتے ہوئے نعرہ تکبیر کے نعرے لگا ئے گئے کیاہم دشمن تھے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے غنڈے اور دہشتگرد کا الزام لگا کر مقدمہ درج کیا جس کے بعد گرفتار دینے کا فیصلہ کیا اگر حکومت گرفتاریوں سے روک رہی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ان کا ایف آئی آر غلط تھی ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے ملک عبدالولی کاکڑ، ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، ملک نصیر شاہوانی ،ثناء بلوچ نے کہا کہ ہم پرامن طریقے سے گرفتاری دینا چاہتے ہیںصوبائی حکومت نے ایم پی ہاسٹل کے تمام راستے سیل اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی انہوں نے کہا کہاصوبائی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے حکومت پرامن طریقے سے گرفتاری سے بھی خوف زدہ ہے صوبائی حکومت کو مرتضیٰ بھٹو والا ماحول بنارہی ہیںسمجھ نہیں آرہاہے کہ اتنے سیکورٹی اہلکاروں کیو تعینات کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے اسمبلی اجلاسوں کا بائیکارٹ کیا ہے حکومت کا ہم پر فنڈز کی خاطر احتجاج کرنے کا الزام جھوٹ اور پروپگینڈا ہے ہم حکومتی جماعتوں کے غیر منتخب افراد کے ذریعے اربوں روپے کی خرد برد کو بے نقاب کریں گے ،بعدازاں بلوچستان اسمبلی کے16 اپوزیشن اراکین ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، ملک نصیر احمد شاہوانی، نصر اللہ زیرے، ثناء بلوچ،میر زابد علی ریکی، احمد نواز بلوچ، شکیلہ نوید دہوار، میر اکبر مینگل، بابورحیم مینگل، سید عزیز اللہ آغا، میر حمل کلمتی، اختر حسین لانگو، مولوی نور اللہ ، مکھی شام لعل لاسی، اصغر علی ترین، حاجی نواز کاکڑتھانہ بجلی روڈ پہنچے جہاں انہوں نےگرفتاری پیش کردی تاہم پولیس حکام نے انہیں گرفتار کر نے سے انکار کردیا اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اظہر اکرم نے این این آئی کو بتایا کہ پولیس نے فل الحال اپوزیشن اراکین کو گرفتار نہیں کیا اور انکی گرفتاری التواء میں رکھی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے البتہ یہ کیس کے تفتیشی آفیسر کی صوابدید پر ہے کہ جب شواہد اور تفتیش کی بناء پر وہ ضروری سمجھے نامزد ارکان اسمبلی کو گرفتار کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ پولیس نے تمام ارکان کو کہا ہے کہوہ فل وقت اپنا بیان ریکارڈ کروائیں ہم انہیں شامل تفتیش کرتے ہیں ہم شواہد اکھٹے کر رہے ہیں اگر ضرورت ہوئی تو ہم انہیں گرفتار کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس آزاد تفتیشی ادارہ ہے ہمیں حکومت یا کسی کی بھی طرف سے کوئی ہدایات نہیں ملیں کہ ارکان اسمبلی کوگرفتار کیا یا نہ کیا جائے ۔دریں اثناء اپوزیشن اراکین کے لئے تھانے میں تکیے اور کالین بھی پہنچا دئیے گئے جب اراکین اسمبلی پیر کی شام تک تھانے میں موجود تھے


زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎