منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

انڈین جاسوس کلبھوشن کو پاکستانی شہری کے حقوق دینا ملک سے غداری اورمودی سے یاری کا شاخسانہ ہے ، برجیس طاہر

datetime 13  جون‬‮  2021 |

ننکانہ صاحب(این این آئی)بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہ مل سکا،بجٹ اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہے(محمد برجیس طاہر ایم این اے)عام آدمی‘ مزدور اور تنخواہ دار طبقہ کو کیادیا گیا،آئی ایم ایف کے مطالبہ پربجٹ کے بعدقوم کو مہنگائی کا نیا طوفان تحفہ میں ملے گاتمام تر اختلافات کے باوجود پی ڈی ایم بجٹ کے بعد ون پوائنٹ

ایجنڈہ کے تحت حکومت کو ٹف ٹائم دے گی انڈین جاسوس کلبھوشن کو پاکستانی شہری کے حقوق دینا ملک سے غداری اورمودی سے یاری کا شاخسانہ ہے سابق وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت و بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر کی اپنے ڈیرہ پر پریس کانفرنس انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہ مل سکا،موجودہ بجٹ اعدادوشمارکے گورکھ دھندہ کے سوا کچھ نہیں ہے،سابق گورنر وفاقی وزیر امورکشمیر مرکزی نائب صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) چوہدری محمد برجیس طاہر ایم این اے117 کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہ مل سکا،موجودہ بجٹ اعدادوشمارکے گورکھ دھندہ کے سوا کچھ نہیں ہے،بجٹ تقریر سننے اور66صفحات پر مشتمل بجٹ کاپی کا بغور مطالعہ کے بعد کہیں نہیں پڑھا کہ موجودہ بجٹ میں کہیں لکھا ہو کہ غریب عوام کو کوئی ریلیف دیاگیا،آٹا،چینی،ادویات یا دیگر اشیاء خوردونوش میں عوام کو کوئی سہولت دی گئی ہو،3سالوں سے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام اور تنخواہ دار طبقہ کو کیا دیا گیا ہے،ہم تو اس انتظار میں تھے کہ چوتھی دفعہ بدلے جانے والیوزیر خزانہ کپتان کی موجودگی میں قوم کو سہولتیں مہیا کرنے کے حوالے سیاہم اعلان کریں گے،یا بجلی کی قیمتیں کم کرنے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کااعلان کرینگے،بجٹ میں عام آدمی مزدور اور تنخواہ دار طبقہ کو

کیادیاگیا،اونٹ کے منہ میں زیرہ اور اعداوشمار کے گورکھ دھندہ کے سوا کچھ نہیں موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کے مطالبہ پرتیار کیا گیا،پٹرول لیوی میں ٹیکس کیمد میں اضافہ کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوگا،نالائق،نااہل اور نکمی حکومت بجٹ کے بعد ضمنی اور سپلیمنٹری بجٹ لائے گی بلکہ پچھلے تین سالوں کی طرح ہر ماہ منی بجٹ

آنے والا ہے،بجٹ کے بعد قوم کومہنگائی کانیا طوفان تحفہ میں ملے گا،ان کا کہنا تھاانڈین جاسوس کلبوشن کوپاکستانی شہری کے حقوق دینا ملک سے غداری اور مودی سے یاری کا شاخسانہ ہے،حکومت نیتین دن قبل کلبوشن کے بارے 80 نقاط پر مشتمل ارجنٹ ایجنڈہ پیش کیا،پہلے آرڈننس جاری کیا بعد میں بل لے کر آگئے کہ

کلبوش کو پاکستانی شہریوں جیسیحقوق دئے جائیں،کلبوشن جاسوس ہے اس کو کس نے حق دیاکہ اسے پاکستانی شہری جیسے حقوق دئیجائیں،حکومت نے الیکشن کے بارے 31بل پاس کئے کہ مشینی ووٹنگ ہو جسے سختی سے ریجیکٹ کیا گیاہے،ایم این اے کا کہنا تھا کہ حکومت اب نہیں چل سکتی مکمل طور پر فیل ہو گئی ہے،تمام تر

اختلافات کیباوجودقائد حذب اختلاف میاں شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری اور دوسری جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا،قوم کے تعاون سے پی ڈی ایم حکومت کو بجٹ کے بعد ون پوائنٹ ایجنڈہ کے تحت ٹف ٹائم دے گی،حکومتی عیاشیوںاور ناتجربہ کاریوں کے تحت نااہلوں نے کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر دیدیا،چوہدری محمد

برجیس طاہرایم این اے کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کامشن ووٹ کو عزت دو پر ڈٹے ہوئے ہیں،ان کی آمد تک اس مشن کو جاری رکھیں گے،ہر طرح پارٹی کے ساتھ ہیں،حلقہ کے عوام کو شکریہ ادا کرنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی مٹی کو داغ نہیں لگنے دینگے،یہ وفاداروں کی مٹی ہے،لوٹا بننا یا ابن الوقت اس مٹی کی روایت نہیں وہ میڈیانمائندگان سیگفتگو کر رہے تھے،اس موقع پر چوہدری شیر زمان چٹھہ امیدوارچئیرمین،چوہدری علی واہلہ سمیت حلقہ بھر سے آئے ورکروں کارکنوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…