سہرا سجانے سے پہلے ہی کفن پہن لیا۔۔ ٹرین حادثے میں مرنے والے پولیس والے کے گھر والوں نے اپنی دکھ بھری کہانی سنا کر سب کو رلا دیا

  اتوار‬‮ 13 جون‬‮ 2021  |  23:01

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن )ہرکی ٹرین حادثے پر پوری قوم ہی غم کے عالم میں مبتلا ہے اس حادثے میں کئی جوان،بچے اور خواتین اس دنیا سے چلے گئے ان ہی میں ایک 25 سالہ علی ناصر شاہ نامی ریلوے پولیس کا اہلکار بھی تھا جس کی اگلے ماہ شادی تھی، علی ناصر شاہ کے کزن و جگری دوست عامر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ابھی وہ حادثے سے ایک دن پہلے ہمارے ساتھ بیٹھ کراپنی شادی کیلئے شیروانی کی تیاری اور بارات کس دھوم دھام نکلے گی یہ سب باتیں کر رہا تھا لیکن ہمیں کیا معلوم


تھا کہ یہ اسکا ہمارے ساتھ آخری دن تھا اگر ہمیں معلوم ہوتا تو ہم اسے جانے ہی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ عامر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تمام گھر والوں اور دوستوں سے بہت پیار کرتا تھا اور اس وقت اس کی ہونے والی دلہن سخت صدمے میں ہے۔دوسری جانب گھوٹکی ٹرین حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں مانانوالہ کے ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ نعشیں آبائی گاؤں پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشکبار۔ پورے علاقہ کی فضا سوگوار۔ آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آبائی گاؤں لمب والی میں سپرد خاک کر دیا گیاگھوٹکی ٹرین حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں مانانوالہ کے بدنصیب خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ جاں بحق نوجوان محمد آصف رحمانی، اس کی بیوی رمضانہ، 4 سالہ میرب اور 6 ماہ کی نور فاطمہ شامل ہیں محمد آصف رحمانی بیوی بچوں سمیت کراچی سے آ رہا تھا محمد آصف رحمانی کراچی میں کارپینٹر کا کام کرتا تھا محمد آصف رحمانی کے والد محمد لطیف نے بتایا کہ بیوی بچوں سمیت سالی کی شادی میں شرکت کے لیے گھر آ رہے تھے کہ بے رحم موت کا شکار ہو گئے۔دوسری جانب ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثہ ،جان بحق افراد کی تعداد 62 ہوگئی ،100 سے زائد زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ،جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن مکمل ،اپ ٹریک پرٹرینوں کی آمدورفت بحال،دس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینیں گذاری جانے لگیںتفصیلات کے مطابق ڈہرکی کے قریب گذشتہ روز دوٹرینوں ںلت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 62 ہوگئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہیںجو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ان میں سے بیشتر کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ موجود ہے ایدھی سینٹر سکھر کے انچارج محمد عرس مگسی اور گل مہر کے مطابق گذشتہ شب ٹرین کے ملبے سے مزہد چودہ نعشیں نکال لی گئی تھیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 62 ہوگئی اور ایدھی سروسز کے سربراہ فیصل ایدھی کی ہدایت پر میتوں کو ان کےعلاقوں میں پہنچانے کے لیے فری ایمبولینس سروس کا آغاز کردیا گیا ہے اور 35 سے زائد میتیں ان کے آبائی علاقوں کی طرف بھیج دی گئی ہیں ان کا کہنا تھا کہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کا زیادہ تر تعلق کراچی ،لودھراں ،راولپنڈی ،وہاڑی ،اور دیگر علاقوں سے ہے جبکہ کچھ میتیں ورثاء کے انتظار میں اوباڑو اسپتال سے رحیم۔یارخاں اسپتال کے سرد خانے میں منتقل کردی گئی ہیں دوسری جانب ڈی ایس سکھر طارق لطیف کا کہنا ہے کہ ٹرین حادثے کے مقام پر ریلیف آپریشن مکمل کرلیا گیا،جائے حادثہ سے انجن اور 17 کوچز اٹھالی گئی ہیں جس کے بعد اپ اینڈ ڈاؤن ٹریک بحال کرکے ٹرین سروس بحال کرنے کا حکم دے دیا گیاہے۔ڈی ایس نے بتایا کہ 29 گھنٹوں کے تعطل کے بعد ریلوے ٹریک پر ٹریفک بحال کردی گئی، اتوار سے رکی ٹرینیں اب منزل مقصود کی طرف چلنا شروع ہوگئی ہیں البتہ متاثرہ ٹریک پر فی الحال ٹریننوں کی اسپیڈ کم رکھی گئی ہے ریلوے حکام۔کے مطابق فی الحال اپ ریلوے ٹریک سے دس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینوں کو جائے حادثہ سے گذارا جارہاہے جبکہ ڈاؤن ریلوے ٹریک بھی ایک سے دو گھنٹوں میں بحال کردیا جائیگا۔


زیرو پوائنٹ

صرف پانچ ہزار روپے کے لیے

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎

لاہور میں 23 جون 2021ء کی صبح 11 بج کر8 منٹ پر جوہر ٹائون میں ایک خوف ناک کار بم دھماکا ہوا تھا‘ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے جب کہ 12 گاڑیاں اور7 عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں‘ بم کا اصل ہدف لشکر طیبہ کے لیڈر حافظ سعید تھے‘ یہ دھماکے سے چند گلیوں کے ....مزید پڑھئے‎