منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائیگا،سود کی مد میں ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

datetime 10  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)مالی سال 22-2021 کا 8ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے سلسلہ میں تمام انتظامات کوحتمی شکل دیدی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بجٹ میں سود کی مد

میں ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار 105 ارب روپے اور دفاع کے لیے 1330 ارب روپے مختص کرنے اورایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 829 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال برآمدات کا ہدف 26 ارب 80 کروڑ ڈالر اور درآمدات کا ہدف 55 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھا جائے گا۔کرنٹ اکائونٹ خسارے کا ہدف 2 ارب 30 کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 31 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر ہو سکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گرانٹس کی مد میں 994 ارب روپے اور سبسڈیز کی مد میں 501 ارب روپے مختص کرنے اور جی ڈی پی کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔رواں سال بجٹ میں افراط زر کا ہدف 8 فیصد، صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 6.8 فیصد اور مینو فیکچرنگ شعبے کی ترقی کا ہدف 6.2 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 16 فیصد اور نیشنل سیونگز کا ہدف 15.3 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…