جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ مجھے نکالنا چاہتے تھے شوکت عزیز صدیقی کے سپریم کورٹ میں اہم انکشافات‎‎

datetime 8  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ 2 سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ مجھے نکالنا چاہتے تھے، بدقسمتی سے میں دسمبر 2015 سے پریشر میں ہوں۔ سپریم کورٹ میں شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دئیے کہ سپریم

جوڈیشل کونسل جج کے خلاف انکوائری کرنے کا اختیار رکھتی ہے جج کو فارغ نہیں کر سکتی، جسٹس صدیقی نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا تھا جس میں کہا کہ اعلیٰ حکام ان کے گھر آئے اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز سمیت گرین بیلٹس سے تجاوزات ہٹانے کا حکم واپس لینے کا کہا، ادارے کے اعلیٰ افسر نے پاناما کیس پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے کہا کہ تعجب ہے کہ آپ سے ڈی جی آئی ایس آئی نے ایسی بات کی، آپ کو غصہ آئی ایس آئی پر تھا اور آپ نے تضحیک عدلیہ کی کی، آپ کو اپنے ادارے کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہئے تھا، ان اداروں کا سوچیں جو عدلیہ کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔وکیل حامد خان نے کہاکہ بار بھی عدلیہ کی حفاظت کے لیے کام کرتی ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ معذرت کے ساتھ بار کی اپنی ایک پالیسی ہے جس کے تحت وہ کام کرتا ہے، مانتے ہیں کہ بار ججز کی معاونت کے لیے ہمیشہ موجود ہے، بار کی تنقید کی وجہ سے جسٹس اقبال حمید

الرحمان نے استعفیٰ دیا، کیونکہ بار کئی بار جذباتی ہو جاتا ہے، مگر آپ کسی اور بات سے ناخوش اور پریشان تھے اور آپ نے اپنے ادارے اور چیف جسٹس کی تضحیک کر دی، آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ کی ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں ہوئیں، آپ دو بار ان سے ملے آپ کے ان سے تعلقات تھے۔یہ سن کر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نشست پر

کھڑے ہو گئے اور جذباتی انداز میں کہاکہ میرے فوج میں کسی سے کوئی تعلقات نہیں ہیں، ہر طرح کے خطرات کے باوجود میں اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد میں مقیم ہوں، میں نے تقریر پریشر کو کم کرنے کیلئے کی، بدقسمتی سے میں دسمبر 2015 سے پریشر میں ہوں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ تو چاہتے ہی مجھے نکالنا تھے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی سے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ ایک دیانتدار شخص ہیں، ہم آپ کی تقریر نہیں سننا چاہتے، آپ نے تو نام گنوانے شروع کر دئیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت دس جون تک ملتوی کردی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…