جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

گاڑیوں پر ٹیکس میں 63 فیصد تک چھوٹ دیے جانے کا امکان

datetime 4  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ+ این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے شوکت ترین گیارہ جون کو اپنا پہلا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے،بجٹ کا کل حجم 8000 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا، ملازمین کی تنخواہوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ متوقع ہے، معیشت کا حجم 52 ہزار 57 ارب روپے تک پہنچے گا، معاشی ترقی کی شرح 4.8

فی صد ہوگی، 3060 ارب روپے قرضوں اور سود پر خرچ ہوں گے، متعدد شعبوں کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش ہیں کہ نئی آٹو پالیسی میں درآمد ہونے والی چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکسز میں 63 فیصد تک چھوٹ دیے جانے کا امکان ہے، مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر صرف سات فیصد ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز ہے، ریگولیٹری ڈیوٹی میں پچاس فیصد، کسٹم ڈیوٹی میں سات فیصد اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ڈھائی فیصد تک چھوٹ کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں 20 ارب روپے سے زائد کی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ہے،ؒتنخواہ دار طبقے کو میڈیکل الاؤنس پر، کارپوریٹ ایگریکلچرل انکم کے منافع پر اور قبائلی علاقہ جات میں کاروبار پر 4 ارب روپے کی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجاویز ہیں۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق سوشل سیکیورٹی اداروں کیلئے انکم ٹیکس، ایل این جی ٹرمینلزاورآپریٹرز کو دی گئی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنیکی سفارش ہے،آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ 5.6 فیصد کے حساب سے 2915 ارب روپے ہوسکتا ہے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام900ارب روپے رکھاجائیگا۔ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے ہوگا، سبسڈیزکی مد میں 530 ارب روپے رکھے جاسکتے ہیں، دفاعی بجٹ

1400ارب سے زائد رکھے جانیکا امکان ہے۔آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدن 5820 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدن 1420 ارب روپے ہوسکتی ہے۔ تعمیراتی شعبے کیلئے ایمنسٹی کی مدت میں توسیع کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کی رضا مندی پر کنسٹرکشن ایمنسٹی اسکیم کی مدت ستمبر یا دسمبر 2021 تک بڑھنے کا امکان ہے۔ آرڈیننس کے تحت مدت میں 3 یا 6 ماہ کی توسیع ہو سکتی ہے۔ اسکیم کے تحت 140 ارب کے 350 منصوبے رجسٹرڈ ہوئے۔ تعمیراتی شعبے کیلئے دی گئی اسکیم کی ڈیڈ لائن جون 2021 ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…