پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

امت مسلمہ کو عالم اسلام کے لیڈروں کی فلسطین کے مسئلہ پر خاموشی پر تشویش ہے، ہمارے ہزاروں کارکن اسرائیل کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں،مولانا فضل الرحمان کا اعلان

datetime 21  مئی‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امت مسلمہ کو عالم اسلام کے لیڈروں کی فلسطین کے مسئلہ پر خاموشی پر تشویش ہے، رمضان المبارک کے آخری ایام میں معصوم بچوں خواتین اور نہتے عوام پر اسرائیلی افواج کے ظلم وبربریت پر امت مسلمہ کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔

مولانا فضل الرحمان پشاورمیں اسرائیل مردہ باد ریلی سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ مظلوم قوتوں کی حمایت کی ہے، ہم کشمیر افغانستان اور فلسطین کے مظلوم عوام پر ہونیوالے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل فلسطین کے عوام پر ہونیوالی بربریت کو روکنے میں ناکام رہی وہ امریکہ کے ادارے بن چکے ہیں جبکہ او آئی سی او آئی نوٹ سی ہے مسلمانوں کے خون سے بازار اور مسجدیں رنگین ہو چکی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں خواتین اور نہتے شہریوں کو بیدردی کے ساتھ قتل کرکے دہشت گردی کا ارتکاب کیا جارہاہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ہمارے حکمران بھی مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں اگر حکومت ہمیں راستہ دیتی ہے تو ہمارے ہزاروں کارکن اسرائیل کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے عربی میں تقریر کرتے ہوئے فلسطین کے مسلمانوں کو جمعیتِ علمائے اسلام اور پاکستان کے عوام کی طرف بھرپور یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہم مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کو انکی مجاہدانہ کوششوں پر سلام پیش کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…