اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پرائز بانڈز کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث 15 بڑے کرنسی ڈیلرز تحقیقاتی اداروں کے گھیرے میں آگئے،گرفتاری کافیصلہ،سنسنی خیز انکشافات

datetime 6  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)پرائز بانڈز کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث کراچی کے 15 کرنسی ڈیلرز تحقیقاتی اداروں کے گھیرے میں آگئے، جلد گرفتار کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جبکہ پرائز بانڈز اور کرنسی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ڈیلرز کے خلاف بھی جلد بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اس سلسلے میں فہرستوں کی تیاری کا کام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں پرائز بانڈز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ڈیلروں کے خلاف

کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو فہرست فراہم کردی، بغیر لائسنس پرائز بانڈز کی فروخت میں ملوث ڈیلرز ملکی اور غیر ملکی کرنسی ذخیرہ کرنے میں بھی ملوث ہیں، فہرست میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 15 ڈیلرز بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات کی روشنی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پرائز بانڈز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ڈیلروں کے خلاف کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو فہرست فراہم کردی۔ ذرائع نے بتایا کہ فہرست میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، ملتان، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ سمیت دیگر بڑے شہروں میں موجود ڈیلروں کے نام موجود ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس فہرست میں اردو بازار اور بولٹن مارکیٹ کے قریب 15 ڈیلروں کے نام بھی موجود ہیں جن کی گرفتاری کے لیے حکمت عملی طے کی جارہی ہے، تاہم چند رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس ضمن میں ایف آئی اے کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جو فہرست فراہم کی گئی ہے وہ ادھوری ہے، فہرست میں ڈیلروں کے دفاتر یا دکانوں کے درست پتے موجود نہیں جبکہ جن ڈیلروں کے نام اس فہرست میں موجود ہیں ان کے لیے کام کرنے والے افراد روزانہ اسٹیٹ بینک سے ہی پرائز بانڈز، نئے کرنسی نوٹ لائن لگا کر خریدتے ہیں جس کا علم خود اسٹیٹ بینک حکام کو بھی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جو فہرست ایف آئی اے کو فراہم کی گئی

اس کے مطابق ایف آئی اے نے کارروائی بھی کی تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر ڈیلرز موجود نہیں تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ جو ڈیلرز بغیر لائسنس اس کاروبار میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے جس کے لیے پولیس بھی ان کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے جبکہ اگر یہی کاروبار وائٹ کالر کرائم کے لیے کیا جائے تو ایف آئی اے کو کارروائی کا اختیار حاصل ہے اور اسی اختیار کے تحت ایف آئی اے بڑے کریک ڈاؤن کی تیاری کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…