ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈالر کی حتمی قیمت کہاں تک جائے گی؟ معاشی تجزیہ کاروں نے بڑھتی ہوئی قیمت کو معیشت کے لیے تباہ کن قرار دے دیا

datetime 27  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ڈالر کی قیمت 180 روپے کی سطح تک جا سکتی ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق ابھی ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گا، دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کیا ہے،

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور عوام پر بوجھ بڑھے گا،اس سے ملکی معیشت پر تباہ کن اثرات پڑیں گے، ذرائع کے مطابق ڈالر 170 پر بھی نہیں رکے گا بلکہ 180 تک جائے گا۔ واضح رہے کہ اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک میں ڈالر کی اڑان جاری ہے جس کے نتیجے میں امریکی کرنسی کی قدر میں تقریباً2.34 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ملک میں مسلسل روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری ہے اور ڈالر تیزی کے ساتھ مہنگا ہوتا جارہا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 2 روپے 34 پیسے کا اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ڈالر کی قدر 164 روپے 50 پیسے ہوگئی۔انٹر بینک میں اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر تگڑا ہوگیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 1 روپے مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 164 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔گزشتہ روز ڈالر کی قیمت میں ایک دم 6 روپے 10 پیسہ کا اضافہ ہوا تھا اور دن بھر اتار چڑھا کے بعد ڈالر کی خرید و فروخت 163 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔ دو روز کے دوران امریکی کرنسی کی قدر میں ساڑھے 7 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔سیکریٹری جنرل ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ظفر پراچہ کے مطابقاوپن مارکیٹ میں ڈالرکی ڈیمانڈ نہ ہونے برابر ہے اور انٹربینک میں اس کی قدر میں اضافہ ہورہا ہے۔ انٹربینک ریٹ بڑھنے کے اثرات اوپن مارکیٹ پربھی مرتب ہورہے ہیں۔واضح رہے کہ رواں ماہ اب تک ڈالر 14 روپے 24 پیسے مہنگا ہوچکا ہے جس سے ملکی و بیرونی قرضوں میں 1490 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…