جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کے آفس میں خصوصی سیل قائم کر دیا گیا، یہ سیل کس لیے قائم کیا گیا ہے اور یہ ملک کے 100 بڑے ناموں کیخلاف کیا کرے گا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم آفس میں احتساب کا خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے اور ملکی دولت لوٹ کر باہرمنتقل کرنے والے100بڑے ناموں کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ 100 ناموں کے خلاف اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لیے ایک بڑی احتساب کمیٹی بنا دی گئی ہے اور اس احتساب کمیٹی میں نیب، ایف آئی اے، انٹیلی جنس اداروں کے حکام بھی شامل ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ تمام شواہد اکٹھے کرکے یہ کمیٹی سو ناموں کو جلد منظرعام پر لائے گی اور نیب کو شواہد کے ساتھ مقدمات بھجوائے گی۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات سے ایک صحافی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ ان سو ناموں میں کون کون شامل ہے، کیا اس میں زرداری صاحب کا نام تو نہیں ڈال دیا، جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپ بڑے بڑے مگرمچھوں کے نام اچھی طرح جانتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب فہرست سامنے آئے گی تو سب کو پتہ چل جائے گا اور قومی دولت کس نے لوٹی یہ قوم کو معلوم ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…