جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کے قرضوں کی اکٹھی ادائیگی کیلئے شاندار بندوبست وہ بھی صرف 17 دن میں، عمران خان نے ملک کی ایسی چیز بیچنے کا فیصلہ کر لیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے قرضوں کی اکٹھی ادائیگی کے لیے حکومت نے سرکاری افسروں کی بڑی بڑی کوٹھیوں کو نیلام کرکے کھربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کوٹھیاں انگریز دور میں شہروں باہر بنائی گئی تھیں اور ان کے ساتھ بڑے بڑے باغ اور کاشت کاری کے لیے کئی ایکڑ زرعی زمینیں تھیں، یہ کوٹھیاں اب شہری آبادیوں میں آ گئی ہیں اور ان زمینوں کی موجودہ قیمت کھربوں روپے میں بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے صوبائی حکومتوں کی وساطت سے محکمہ مال کے حکام کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ تمام کمشنرز، ڈی آئی جیز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز کی سرکاری رہائش گاہوں کے علاوہ سرکٹ ہاؤسز، ریسٹ ہاؤسز، گیسٹ ہاؤسز، ڈاک بنگلوں، کیمپ دفاتر اور دیگر سرکاری رہائش گاہوں کے بارے میں فوری طور پر رپورٹ بنا کر وزیراعظم ہاؤس بھیجیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی پرفارما بھی تیار کیا گیا ہے، اس پرفارما میں افسران کے نام، سرکاری رہائش گاہ کی لوکیشن، موجودہ استعمال، کل رقبہ، زیر تعمیر رقبہ، کمروں کی تعداد، رہائش گاہ میں دستیاب سہولتوں کی فہرست، بلڈنگ کی حالت، سرکاری رہائش گاہ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تعداد، سالانہ اخراجات اور افسروں کے سالانہ انکم ٹیکس کی تفصیلات درج کرنا بھی ضروری ہے، وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ صوبہ کے چیف سیکرٹری یہ رپورٹ اپنے دستخطوں کے ساتھ دیں گے، صوبے کا چیف سیکرٹری رپورٹ کے بارے میں سرٹیفکیٹ دے گا کہ یہ مکمل طور پر درست ہے۔ پاکستان کے قرضوں کی اکٹھی ادائیگی کے لیے حکومت نے سرکاری افسروں کی بڑی بڑی کوٹھیوں کو نیلام کرکے کھربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…