جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہم انصاف کیلئے بیٹھے ہیں،چاہتا ہوں کھل کر اپنی تکالیف کا اظہار کریں،چیف جسٹس نے عوام کو بڑی خوشخبری سنادی

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(اے این این ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کسی کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم انصاف کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔ اتوار کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس نے کورنگی ناصر جمپ

کے قریب گھروں کو مسمار کرنے کے معاملے سمیت کئی مقدمات کی سماعت کی۔کراچی کے علاقے کورنگی کے رہائشیوں نے اپنے گھروں کو مسمار کئے جانے کے خلاف عدالت کے باہر احتجاج کیا تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مظاہرین کے وفد کو بلا کر ان کے مسائل سنے۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ہمارے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، کے ڈی اے والے کہتے ہیں کہ ہمارے مکان چائنا کٹنگ پرقائم ہیں، کئی شہریوں کو کے ڈی اے نے نوٹس بھی دے دیئے ہیں، اگرجگہ چائنا کٹنگ تھی تو الاٹمنٹ کیوں دی گئی؟ ہمیں انصاف دیا جائے اور ہمارے گھروں کومسمار ہونے سے بچایا جائے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ میں نے میڈیا پر آپ لوگوں کا احتجاج دیکھا، کسی کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم انصاف کے لئے یہاں بیٹھے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ عوام کھل کر اپنی تکالیف کا اظہار کریں، معاملے کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور جن افراد کے گھر قانون کے مطابق ہیں انہیں مسمار نہیں ہونے دیں گے۔ اس موقع پر عدالت نے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی(کے ڈی اے)کو مزید کارروائی سے روک دیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ایک ماہ میں ریوینیو بورڈ،کے ڈی اے اور دیگر متعلقہ حکام سے ریکارڈ طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…