جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کیا پاکستان کے اوپر زیادہ تر بیرونی قرضہ چین کا ہے؟حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کیلئے رابطہ کیا ہے یا نہیں؟وزیرخزانہ اسد عمر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تیسری سہ ماہی رپورٹ برائے 2017-18 سینیٹ میں پیش کردی۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے منگل کو ایوان میں رپورٹ پیش کی ۔اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کا بیان غلط ہے،پاکستان نے ابھی تک آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ نہیں کیا،اگر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس چلا بھی جائے تو بڑی بات نہیں اس سے پہلےبارہ دفعہ پاکستان آئی ایم ایف سے

رجوع کرچکاہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکہ کی آئی ایم ایف کو بیل آؤٹ کیلئے ڈکٹیٹ کرنا غیر فطری ہے،یا تاثر درست نہیں پاکستان کے اوپر زیادہ تر بیرونی قرضہ چین کا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی کو بہت جلد مکمل کیا جائے گا، عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بریفینگ ہی این ایف سی سے متعلق لیں،شیری رحمن کی جانب سے معیشت آخری سانسیں لینے کی بات درست ہے،اسٹیٹ بینک کے ساتھ اجلاس کیا جائے گا، جس کے بعد وزیراعظم کے پاس جائیں گے اور آخر کار پارلیمنٹ سے ہی رجوع کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…