اسلام آباد( آئی این پی ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے سے ہونے والا خرچہ گوگل پر سرچ کیا تھا لہذا آپ بھی گوگل کرکے دیکھ لیں پتہ چل جائے گا۔تفصیلات کے مطابق منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد کابینہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں بارے میڈیا کو بریفنگ دی ا س دوران ایک صحافی نے ان سے وزیر اعظم کے وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ ہیلی کاپٹر پر جانے کے
اخراجات کے حوالے سے سوال کیا جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ میں نے ہیلی کاپٹر کی فی گھنٹہ لاگت کے بارے میں گوگل کیا تھا آپ بھی گوگل کر کے دیکھ لیں ، پتہ چل جائے گا ۔ وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کو نجی ٹیکسی سروس ”اوبر ”پر آنا چاہئے انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر اور سیکیورٹی میں فرق رکھنا چاہیے، وہ وزیر اعظم ہیں تحریک انصاف کے چیئرمین نہیں ،نوازشریف کا کھانا ہیلی کاپٹر پر مری جاتا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے ہیلی کاپٹر کا استعمال وی آئی پی کلچر نہیں، عمران خان وزیر اعظم پاکستان ہیں، یا تو وزیر اعظم سیکیورٹی کی گاڑیوں کے ساتھ بنی گالا جائیں یا پھر ہیلی کاپٹر پر۔گزشتہ دنوں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عمران خان روزانہ دو مرتبہ بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے جاتے ہیں جس پر 3 لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ایوان وزیراعظم سے بنی گالہ تک ہیلی کاپٹر کے روزمرہ استعمال پر تنقید کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پی ایم ہاؤس سے بنی گالہ ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچہ 50 سے 55 روپے ہے۔صدر ممنون حسین کی لندن کے دورے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر نے پہلے ہی کہا تھا کہ بدعنوانی والا کچھ دن بچتا ہے پھر اللہ کی پکڑ میں آجاتا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ صدرممنو ن حسین بھی نجومی ہیں ۔