جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

معاملہ نیا رُخ اختیارکرگیا،قندیل بلوچ جس گھر میں قتل ہوئی وہ گھرکس اہم ترین شخصیت کے قریبی دوست کا تھا،حیرت انگیزانکشاف

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) قندیل بلوچ قتل کیس میں عدالت نے تفتیشی آفیسر کو20نومبرتک حتمی چالان پیش کرنے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 20نومبرتک ملتوی کردی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم مفتی عبدالقوی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دوروزکی توسیع کردی،،پولیس کا کہنا ہے کہ قندیل بلوچ جس گھر میں قتل ہوئی وہ مفتی عبد القوی کے قریبی دوست کا گھر تھا۔تفصیلات کے مطابق ملتان میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج امیر محمد خان

نے قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران قندیل بلوچ قتل کیس میں گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز عدالت میں پیش ہوئے جبکہ قندیل بلوچ کے والد عظیم ماہڑہ بھی عدالت پہنچے۔ سماعت کے دوران قندیل بلوچ قتل کیس کے تفتیشی افسر نے چالان مکمل کرنے کے لیے مہلت مانگ لی، عدالت نے 20 نومبر کو حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی۔قندیل بلوچ کے والد نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا بیٹی کا اصل قاتل مفتی عبد القوی ہی ہے، میں کسی صورت معاف نہیں کروں گا۔ قندیل کے والد نے دعوی کیا کہ ملزم صلح کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔اس موقع پر قندیل بلوچ کے والد عظیم ماہڑہ نے کہا کہ ان کی بیٹی کو مفتی عبدالقوی کے کہنے پر قتل کیا گیا، میں مفتی قوی کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مفتی قوی نے مجھے پیسوں کی پیشکش کی کہ میں ان کا نام کیس سے نکلوادوں لیکن میں نے انکار کردیا کیونکہ میں اپنی بیٹی کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتاتھا۔دوسری جانب قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث مفتی عبدالقوی کو پولیس کو علاقہ مجسٹریٹ محمد پرویز کی عدالت میں پیش کیا۔ مفتی عبدالقوی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کیس میں بغیروجہ شامل کیا جارہا ہے، میرا کوئی قصور نہیں،

جب کہ مفتی قوی کے وکیل یوسف زبیر نے کہا کہ مفتی قوی کو مفروضوں کی بنیاد پر کیس میں گھسیٹا جارہا ہے، ان سے مزید کسی قسم کی ریکوری نہیں ہے۔سماعت کے دوران پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں قندیل بلوچ قتل ہوئی وہ گھر مفتی عبدالقوی کے قریبی دوست کا تھا۔ پولیس کی جانب سے مفتی عبدالقوی کے پولی گرافک ٹیسٹ کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ عدالت نے مفتی قوی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔ بعد ازاں مفتی عبدالقوی کوعدالت سے سخت سیکیورٹی میں تھانہ چہلیک منتقل کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…