جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

40 سال کا طویل ترین عرصہ بھارت کی قید میں رہنے اور زبان و ناخن سے پاکستان کی خاطر محروم ہونے والا وطن عزیز کا عظیم سپوت

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)حب الوطنی پر مبنی ڈرامے مختلف ادوار میں نشر ہوتے رہے ہیں جنھوں نے مقبولیت کی نئی تاریخ رقم کی۔پاکستان میں ڈرامہ کی تاریخ لگ بھگ پچاس سال پرانی ہے جس میں بیشتر اوقات سماجی مسائل یا طنز و مزاح پر ہی توجہ مرکوز رکھی گئی مگر یہ

بھی حقیقت ہے کہ حب الوطنی پر مبنی ڈرامے بھی مختلف ادوار میں نشر ہوتے رہے ہیں جنھوں نے مقبولیت کی نئی تاریخ رقم کی۔سپاہی مقبول حسین پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جو چار دہائیوں تک بند رہنے کے بعد کھلا تو اس نے غم و غصے کی لہر پوری قوم میں دوڑا دی۔40 سال تک ہندوستان کی قید میں رہنے والے پاکستانی سپاہی مقبول حسین کے حالات زندگی پر ڈرامہ سیریل آئی ایس پی آر اور انٹرفلو کمیونیکشن لمیٹڈ کے باہمی اشتراک سے تیار کی گئی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح آزاد کشمیر رجمنٹ میں شامل یہ سپاہی 1965 کی پاک انڈیا جنگ کے دوران لاپتہ ہوگیا تھا۔حسن نیازی نے نوجوان مقبول حسین کا کردار ادا کیا جبکہ حیدر امام رضوی نے اس کی ہدایات دیں، جس میں دکھایا گیا تھا کہ اس سپاہی سے اس کی شناخت معلوم کرنے کے لیے کتنا تشدد کیا گیا مگر وہ ہمیشہ جواب میں ایک نمبر 335139 ہی لکھتا رہا، تشدد کے دوران اس کی زبان اور ناخن بھی اکھاڑے گئے۔چالیس سال بعد 2005 میں ہندوستان سے سول قیدیوں کے تبادلے کے دوران مقبول حسین کو بھی واہگہ بارڈر پر پاکستان کے حوالے کیا گیا تو ان کے ماں باپ اور بھائی وغیرہ سب دنیا سے گزر چکے تھے۔ اس ڈرامے کے آخر میں حقیقی سپاہی مقبول حسین کو دکھایا گیا ہے جسے فوج کی جانب سے پھولوں اور احترام سے نوازا جا رہا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…