جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

بالی ووڈ اداکارہ دپیکاپڈوکون کے نام والد کا خط ،سکول کتاب کا حصہ بن گیا ، خط میں ایسا کیا ہے، آپ بھی پڑھئے

datetime 10  اگست‬‮  2017 |

ممبئی( آن لائن )بولی وڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کا شمار تو کامیاب اداکارہ کے طور پر کیا جاتا ہی ہے لیکن ان کے والد بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔دپیکا پڈوکون کے والد پرکاش پڈوکون کا شمار ہندوستان کے کامیاب بیڈمنٹن کھلاڑیوں میں کیا جاتا ہے۔جنہوں نے دپیکا پڈوکون کے

کیریئر کی شروعات میں ان کے اور دوسری بیٹی انیشا پڈوکون کے نام ایک خط تحریر کیا تھا، اور ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ خط اب ہندوستان میں اسکول کی کتابوں میں بھی ایک مضمون کے طور پر شائع کیا جارہا ہے۔لیکن یہ خط اتنا وائرل ہوا کیسے؟ اگر آپ نہیں جانتے تو ہم آپ کو بتاتے چلیں، کہ 2016 میں ہونے والے 61 ویں فلم فیئر ایوارڈز کے دوران دپیکا پڈوکون کو ان کی کامیاب فلم ’پیکو‘ کے لیے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔اب کیوں کہ فلم ’پیکو‘ ایک بیٹی اور والد کے رشتے پر مبنی فلم تھی، تو دپیکا پڈوکون نے ایوارڈ قبول کرتے ہوئے ناظرین کے سامنے وہ خط پڑھ کر اپنے والدین اور مداحوں کا شکریہ کیا جو کئی سالوں پہلے ان کے والد نے تحریر کیا تھا۔اس خط میں دپیکا کے والد نے انہیں اور ان کی بہن کو یہ سمجھایا تھا کہ وہ کبھی ہارنے سے نہ ڈریں، چاہے وہ کتنی بھی بڑی اسٹار بن جائیں ان کے لیے ہمیشہ ان کی بیٹی ہی رہیں گی، جنہیں گھر آنے کے بعد گھر کے کام کرنے پڑ سکتے ہیں۔خط میں پرکاش پڈوکون نے مزید لکھا کہ ’چاہے کچھ بھی ہوجائے آخر میں سب سے اہم گھر والے اور دوست ہوتے ہیں‘۔دپیکا کے والد کے اس متاثر کن خط کو سوشل میڈیا پر بھی کافی پسند کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…