جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

اداکارہ شبنم پاکستان چھوڑنے کےتذکرہ پرآبدیدہ مداحوں کو جذباتی کر دیا

datetime 12  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(آن لائن)1970 کی دہائی میں لولی وڈ کی پوسٹر گرل کہلائی جانے والی اداکارہ شبنم پاکستان اور فلم انڈسٹری چھوڑنے کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔گورنمنٹ کالج لاہور میں اولڈ راویئنز یونین (او آر یو) کے زیر اہتمام ادبی فیسٹیول کے دوران بات کرتے ہوئے شبنم نے کہا،وہ میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا لیکن میں نے یہ اپنے خاندان کے لیے کیا، خاص کر اپنے والد کے لیے، جنھیں بنگلہ دیش میں دل کا دورہ پڑا تھا

میں پاکستان میں تھی۔شبنم کا کہنا تھا،میں پاکستان میں 3 عشروں تک رہی اور یہاں کام کیا، میں ان لوگوں کو کیسے بھول سکتی تھی، جنھوں نے مجھے اتنا پیار اور عزت و احترام دیا۔اداکارہ کا خیال تھا کہ فلم انڈسٹری 1971 کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی، جب ان سے بنگلہ دیشی سینما کے حوالے سے سوال کیا گیا تو شبنم نے جواب دیا، ‘اس کی صورتحال بھی بالکل ایسی ہی ہے جیسی آج کل پاکستانی سینما کی ہے، تاہم وہ سنیما کی بحالی کے حوالے سے پْریقین نظر آئیں اور کہا کہ نئی نسل اس مقصد کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔شبنم کا کہنا تھا کہ ان کے زمانے میں اداکاروں کی اتنی ڈیمانڈز نہیں تھیں اور نہ ہی فائیو اسٹار ہوٹلوں کا کوئی تصور تھا اور آؤٹ ڈور شوٹنگز کے دوران انھیں زیادہ تر خیموں میں رہنا پڑتا تھا۔شبنم نے بتایا کہ ان کے شوہر روبن گھوش بہت محبت کرنے والے انسان تھے اور انھوں نے کبھی ان کی فلمی دنیا میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی کبھی شوٹنگ کے بعد دیر سے گھر آنے پر کبھی کوئی اعتراض کیا۔ادبی فیسٹیول میں مصطفیٰ قریشی اور اصغر ندیم سید بھی شریک ہوئے، جبکہ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…