اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت اے آئی سے آنے والی بڑی تبدیلیوں اور اس سے وابستہ خطرات کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران بل گیٹس کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت معاشرے کے مختلف شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں لا رہی ہے، تاہم حکومتوں کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ابھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے استعمال میں اضافے کے نتیجے میں متعدد شعبوں میں روزگار متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سائبر حملوں اور لوگوں کے مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار جیسے مسائل بھی مستقبل میں اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔بل گیٹس کے مطابق کچھ عرصہ قبل وہ اے آئی کے مستقبل کو زیادہ مثبت انداز میں دیکھتے تھے، تاہم اب ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات کو بھی سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔دوسری جانب بل گیٹس اور ان کی گیٹس فاؤنڈیشن کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت ترقی یافتہ اور غریب ممالک کے درمیان موجود فرق کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت فاؤنڈیشن نے تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس منصوبے کے تحت ایسے اے آئی ماڈلز کی تیاری پر بھی سرمایہ کاری کی جائے گی جو متعدد زبانوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
بل گیٹس نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے امکانات کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی ادویات اور ویکسینز کی تیاری کے مراحل کو تیز کیا جاسکتا ہے، اس لیے اس کے طبی فوائد کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات اور مواقع سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ ان کے مطابق دنیا کو ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔بل گیٹس نے اے آئی کی صورتحال کا موازنہ قدرتی آفات پر مبنی فلموں سے کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کو اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول مصنوعی ذہانت کو ایک ایسی غیر انسانی ذہانت تصور کیا جاسکتا ہے جو اب انسانی معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔اس سے قبل اگست 2026 کے اختتام پر ایک بلاگ تحریر میں بھی بل گیٹس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کچھ مخصوص شعبوں میں انسانی ملازمتوں کا تحفظ ضروری ہوگا تاکہ مصنوعی ذہانت مکمل طور پر ان کی جگہ نہ لے سکے۔انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اے آئی اور روبوٹکس میں مسلسل ترقی کے باعث متعدد ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں، اس لیے ایسے شعبوں کی نشاندہی ضروری ہے جہاں انسانی کردار برقرار رکھا جائے۔بل گیٹس نے طبی شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ بعض نازک اور حساس حالات میں مریض کو مشین یا روبوٹ کے بجائے انسانی موجودگی اور انسانی تعامل کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے۔



















































