جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جاپان کی جانب سے تمام گاڑیاں ایک ہی بیٹری سے چلانے کے پلانٹ کی پیش کش

datetime 18  جنوری‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) پاکستان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین نے کہا ہے کہ آج کے دور میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال ہی سے کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت دی جاسکتی ہے اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو جاپان کی جانب سے لتھیم بیٹری کا پلانٹ پاکستان میں لگانے ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور سرمایہ فراہم کرنے کی

پیش کش پر غور کرنا چاہیے تاکہ ہمارے ہاں بھی نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے معاشی ترقی کے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکیں ۔انہوں نے کہا لتھیم ایک ٹھوس دھات ہے اور اس سے بنائی جانے والی جاپانی بیٹری موٹرسائیکل،آٹو رکشے۔ کار،ویگن اور دیگر گاڑیاں چلانے کے لیئے استعمال کی جاسکتی ہے ، لتھیم کی ایک بیٹری اتنی پاورفل ہوتی ہے جس کو کسی بھی گاڑی میں لگایا جاسکتا ہے اور موٹر سائیکل بھی 120میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جا سکتی ہے۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے ڈیجیٹل میڈیا اسٹوڈیو میں پروگرام کارپوریٹ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔رانا عابدنے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارت میں اضافہ پر توجہ نہیں دی اس لیے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دے کیونکہ جاپان مشینری فراہم کرتے وقت اس کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ بھی فراہم کرتا ہے جبکہ چین صرف اپنی مشینری کی برآمدات کرتا ہے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر نہیں کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ صدی میں جاپانی قوم دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹم بم گرائے جانے کے نتیجہ میں ہونے والی ہولناک تباہی کے بعد مایوس نہیں ہوئی انہوں نے اپنے نوجوان ڈاکٹرز، انجینرز،سائینسداں اور دیگر نوجوانوں کو

مریکہ،کنیڈا،برطانیہ اور جرمنی بھیجا اور انہوں نے وہاں سے بہت کچھ سیکھ کر آنے کے بعد اپنی قومی ترقی کے لئے کام کیا جس کے بہتر نتائج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کے لئے ٹھوس قوانین اور بہترین منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کیونکہ آج بھی ہماری برآمدات کے مقابلہ میں درآمدات

بہت زیادہ ہیں۔انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری حکومتیں نوجوانوں کو 120ارب روپے کے لیپ ٹاپ فراہم کردیتی ہیں جبکہ اسی رقم سے لیپ ٹاپ بنانے کا ایک کارخانہ بھی لگایا جاسکتا تھا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ملک میں گاڑیوں کی درآمدات کے لئے موجودہ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ ان سے صرف ایک محدود طبقہ کو ہی فائیدہ پہنچ رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…