جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے یا نہیں؟ واشنگٹن پوسٹ نے عالمی سرچ انجن گوگل کے تضاد کو بے نقاب کردیا

  پیر‬‮ 17 فروری‬‮ 2020  |  6:02

واشنگٹن(این این آئی) گوگل میپس نے بھارت کے سوا پوری دنیا میں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقے کے طورپر تسلیم کیا ہے اور جب اس کے مقبول سرچ انجن پر جموں وکشمیر کوتلاش کیاجاتا ہے تو دنیا بھر میں اسے متنازعہ علاقے کے طورپردیکھا جاسکتا ہے لیکن جب اس کو بھارت میں دیکھا جاتا ہے تو خطہ جموں وکشمیرکو بھارت کے حصے کے طورپر دکھایا گیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے عالمی سرچ انجن گوگل کے تضاد کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گوگل کے آن لائن نقشوں پر جموں وکشمیر کی سرحدوں کو اس طرح


کھینچا گیا ہے کہ بھارت سے باہرباقی دنیا میں اس کی سرحدوں کو نقطہ دار لکیر کے طورپردیکھاجاسکتا ہے جو متنازعہ علاقے کی نشانی ہے لیکن بھارت میں اس کی سرحدوں کو مکمل لکیر میں تبدیل کرکے اس ملک کے حصے کے طورپر دکھایا گیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے جموںو کشمیر متنازعہ علاقہ ظاہر ہوتا ہے جبکہ بھارت سے یہ اس کے ایک حصے کی حیثیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گوگل میپس متنازعہ علاقوں کی سرحدیں اس بنیاد پر تبدیل کرتارہتا ہے کہ آپ کس ملک سے اس کوتلاش کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کے جواب میں کمپنی کے ایک ترجمان نے کہاکہ متنازعہ علاقوں کو منصفانہ انداز میں پیش کرنے کے لئے گوگل کی مستقل اور عالمی پالیسی ہے جو متنازعہ علاقوں یا دعویدار ممالک کے دعوئوں کو اپنے عالمی ڈومین پر ظاہر کرتی ہے۔یہ کسی بھی فریق کے موقف کی توثیق یا تصدیق نہیں ہے۔ مقامی طورپرmaps.google.co.in میں مقامی قوانین کے مینڈیٹ کے مطابق اس ملک کے موقف کودکھایا گیا ہے ۔


موضوعات: