جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

مارک زکربرگ نےفیس بک میں سیاسی اشتہارات کی پالیسی سے متعلق اہم ترین اعلان کر دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی)فیس بک کو سیاستدانوں کی جانب سے اشتہارات کی پالیسی کے حوالے سے مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے مگر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سیاسی اشتہارات پر پابندی نہ لگانے کا کہا ہے۔ایک امریکی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں مارک زکربرگ نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ سیاستدانوں کے بیانات پر

لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں، یہ بہت ضروری ہے کہ لوگ خود دیکھیں کہ سیاستدان کیا کہہ رہے ہیں، تاکہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں، مجھے نہیں لگتا کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کو سیاستدانوں یا خبروں کو سنسر کرنا چاہیے۔مارک زکربرگ کی جانب سے کافی عرصے سے فیس بک کی سیاسی تقاریر کے حوالے سے متنازع حکمت عملی کا دفاع کیا جارہا ہے، جبکہ دوسری جانب فیس بک پر غلط معلومات کی ترسیل، نفرت انگیز تقاریر اور دیگر مواد کی روک تھام کے لیے دبائو بڑھ رہا ہے۔فیس بک کی سیاسی اشتہارات کی پالیسی پر تنقید کا نیا سلسلہ اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب فیس بک نے ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی صدارتی مہم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اشتہار کو ہٹانے سے انکار کردیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس میں سابق نائب صدر کے بارے میں غلط معلومات دی گئی ہے۔فیس بک کی جانب سے سیاسی اشتہارات کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلیوں پر غور کیا جارہا ہے مگر اس کا موقف اس معاملے میں دیگر کمپنیوں سے مختلف ہے۔ٹوئٹر نے اکتوبر میں سیاسی اشتہارات پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ گوگل نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ انتخابی اشتہارات کو عمر، جنس اور پوسٹل کوڈ کے مطابق محدود حلقے کو دکھائے گا۔اس انٹرویو کے دوران مارک زکربرگ نے اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ڈنر کرنے کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں مختلف امور میں بات چیت کی گئی مگر یہ بات چیت نجی تھی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…