ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

فیس بک خودکار طریقے سے دہشت گردوں کا مواد تیار کر رہا ہے

datetime 10  مئی‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ کے نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن نے کہا ہے کہ فیس بک نادانستہ طور پر خود کار ٹیکنالوجی سے دہشت گردوں سے منسلک گروپس کے لیے مواد تیار کرتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام انتہا پسندوں کی شناخت نہیں کر پا رہا۔نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن نے امریکہ کی جانب سے

دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کے فیس بک پیجز کے تین ہزار ممبرز پر ایک تحقیق کی ہے جنہوں نے ان صفحات کو لائیک کر رکھا ہے۔ تحقیق کاروں نے دریافت کیا کہ شدت پسند گروپ داعش اور القاعدہ کھلے عام سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر متحرک ہیں۔سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پریشان کن بات یہ ہے کہ فیس بک کا اپنا سوفٹ ویئر خود کار نظام کے تحت انتہا پسندوں کے سوشل میڈیا صفحات کے لیے ماضی کی یادوں اور خوشی کی ویڈیوز تیار کرتا رہتا ہے۔ ان ویڈیوز کو اچھی خاصی تعداد میں لوگ دیکھتے اور لائیک کرتے ہیں۔ اس حوالے سے نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن نے اپنے ایک ذریعے کی جانب سے امریکہ کے سکیورٹی اینڈ ایکسچیج کمیشن کو ایک شکایت درج کروائی ہے۔ اس ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔وسل بلوورسینٹر نے 48 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں کہا کہ فیس بک کی جانب سے دہشت گردی کے مواد کو روکنے کی کوششیں کمزور اور ناقابل یقین ہیں۔ ہمارے لیے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ فیس بک خود کار ٹیکنالوجی سے دہشت گردی کے مواد کو پیدا کرنے کے ساتھ پھیلا بھی رہا ہے۔ نیشنل وسل بلوور سینٹر واشنگٹن کی شکایت کے مطابق فیس بک انتہا پسندانہ اکائونٹس اور پوسٹس کو ختم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کر رہا۔ ادھر فیس بک حکام نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وہ دو سال پہلے کی نسبت اب نئی ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری کی بدولت زیادہ کامیابی سے دہشت گردی سے متعلق مواد کو ہٹا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے تاہم دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنی کوششوں کے حوالے سے بہت متحرک ہیں،فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو ایک طرف نفرت انگیز اور پرتشدد مواد کی روک تھام نہ

کرنے کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے، تو دوسری جانب ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ فیس بک پر مخالف موقف کو برابر وقت نہیں دیا جاتا، چاہے وہ کتنا بھی ناخوش گوار کیوں نہ ہو۔فیس بک نے مارچ میں اپنے نیٹ ورک اور انسٹا گرام پر سفید فام قومیت اور سفید فام علیٰحدگی پسندوں کی حمایت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…