اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

2018میں زلزلے ہی زلزلے، پوری دنیا کے لوگوں کو تیار رہنے کی ہدایت،نئی تحقیق میں خوفناک انکشافات

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (آن لائن) ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو اگلے سال زیادہ زلزلوں کے لیے تیار ہوجانا چاہیے اور اس خطرے کی وجہ انتہائی غیرمعمولی ہے اور وہ ہے زمین کے گھومنے کی حرکت میں معمولی سی کمی آنا۔ویسے تو زلزلے کی درست پیشگوئی کرنا تو ناممکن ہے مگر سابقہ ریکارڈز کو دیکھ کر سائنسدان زمین کی اندرونی حرکت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔کولوراڈو یونیورسٹی اور مونٹانا

یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دنیا بھر میں 1900 کے بعد سے آنے والے 7 اعشاریہ یا اس سے زیادہ شدت کے زلزلوں کا ریکارڈ دیکھا گیا۔ویسے تو اکثر برسوں میں اوسطاً پندرہ بڑے زلزلے دیکھنے میں آئے جن کی شدت بہت زیادہ قرار دی جاسکتی ہے مگر گزشتہ 117 برسوں میں مجموعی طور پر یہ اوسط 25 سے 30 کے درمیان رہی۔سائنسدانوں نے یہ جانا کہ اتنے برسوں میں زلزلوں کی شرح میں اضافے کے پیچھے زمین کے گھومنے کی رفتار میں کمی آنا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق زمین کی حرکت میں اس طرح کی تبدیلی 2011 میں آئی تھی اور حالیہ واقعات سے عندیہ ملتا ہے کہ اب دوبارہ ایسا ہورہا ہے۔تحقیق کے مطابق انیس ستمبر کو میکسیکو سٹی میں 7.1 اعشاریہ شدت کا زلزلہ، پھر 12 نومبر کو عراق۔ایران سرحد پر 7.3 شدت جبکہ نیو کیلیڈونیا میں 19 نومبر کو 7 سے شدت کا زلزلہ آیا۔تحقیق میں زلزلوں کی تعداد میں اضافے کی پیشگوئی ہی نہیں کی گئی بلکہ یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ خطرے والے مقامات خط استوا کے قریب ہوں گے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ جغرافیائی لحاظ سے اگلا سال غیر مستحکم ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ زلزلے کی درست پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔تاہم ان نتائج کے حوالے سے دنیا کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اس طرح کی معلومات مستقبل قریب میں تحفظ کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…