منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

زمین سے باہر زندگی کی تصدیق،امریکہ نے حیرت انگیز اعلان کردیا

datetime 15  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی سائنسدانوں نے زحل کی فضا میں سمندر دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناسا کی مخصوص لیباریٹری کے سائنس دانوں اور انجنیئروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے خلائی گاڑی کو اس طرح بھسم کرنے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا ہے، کیونکہ مشن کے دوران انھیں زحل کے چاند کے سیاروں پر زندگی کے کچھ آثار نظر آئے ہیں۔مورگن کیبل کیسینی کے سائنسی نظام کی انجنیئرنگ کے منصوبے کے معاون سربراہ ہیں۔

بقول ان کے، منصوبے کو ڈزائن کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال نہیں تھا کہ اِس گہرے نظام شمسی میں سمندر کی دنیائیں آباد ہیں۔زحل کے چاندوں پر سمندروں کی دریافت کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں زندگی کا وجود ہوگا۔پہلی غیر متوقع دریافت اس وقت سامنے آئی جب قطبِ جنوبی کے انسیلادوس حصے پر زحل کے چھلے دار کونے پر ایک چاند سا مکھڑا دیکھا گیا۔مولی بٹنر، کیسینی خلائی گاڑی کے موجد نظاموں کی انجینئر ہیں۔ ان کے الفاظ میں اِس کی تہ کے اندر رقیق پانی کا سمندر بل کھا رہا ہے، جس سے گرم چشمے پھوٹتے ہیں، جو شگاف کی شکل اختیار کرتے ہیں، اور پھر ان سے گرم چشمے ابلنے لگتے ہیں۔کیسینی پر نصب آلات نے گرم چشمے سے ابلتی ہوئی گیس کے ذرات کا ذائقہ چکھ لیا ہے۔کیبل نے بتایا کہ ہمیں پتا ہے کہ وہاں نمکیات موجود ہیں۔ اور یہ بات حیات کی نشاندہی کرتی ہے، چونکہ زندگی کو کچھ معدنیات کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور، یہاں نمک موجود ہیں۔ ہمیں ٹھوس ثبوت مل چکا ہے کہ سمندر کی تہ میں آبی حرارت کے سوراخ موجود ہیں، جو سمندر کے بہا کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسا ہے کہ جب زمین پر ہمیں آبی حرارت کے سوراخ ملتے ہیں تو آپ کو بیشمار نامیاتی وجود کا پتا چلتا ہے۔کیسینی کی مدد سے سائنس داں زحل کے سب سے بڑے چاند، ٹیٹان سے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ٹیٹان پر پانی کی جگہ، لیتھین اور ایتھین کے مائع پر مبنی جھیلیں اور سمندر دریافت ہوئے ہیں۔

اس بات کا بھی ثبوت موجود ہے کہ اس کہ تہ کے اندر مائع سمندر موجیں مار رہا ہے، جس میں شاید امونیا اور پانی موجود ہے۔ سائنس داں اور انجنیئر کہتے ہیں کہ ایسی فضا میں حیات کو برقرار رکھنا عین ممکن ہے۔کیبل کے بقول، ہم ابھی تک زندگی کے ایسے سحر انگیز مقامات کا کھوج لگا رہے ہیں، اور ہمارے سامنے نظام شمسی کا یہ ایک عجیب نظارہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…