لندن(آئی این پی)برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 200کلومیٹر چوڑا یہ خلائی پتھر مریخ اور مشتری کے درمیان موجود ہے اور اپنے مدار میں سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بڑے سائز کا سیارچہ نما خلائی پتھر آئرن، نکل اور سونے جیسی قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا ہے۔ اس کی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر سائنسدان اسکا چھوٹا سا ٹکڑا بھی زمین پر لانے میں کامیاب ہو گئے تو عالمی معیشت تہہ و بالا ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پتھر میں موجود صرف آئرن کی مالیت 10ہزار کواڈریلین ڈالر (1کروڑ ٹریلین ڈالر)ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ہماری پوری دنیا کی معیشت 73.7ٹریلین ڈالر کی حامل ہے۔ ناسا خلائی راکٹ کے ذریعے اس پتھر پر ایک مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس مشن میں ناسا کی سرکردہ سائنسدان اور ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ ارتھ اینڈ سپیس ایکسپلوریشن کی ڈائریکٹر لنڈے ایلکنز ٹینٹن بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ناسا کے پاس تاحال ایسی ٹیکنالوجی نہیں ہے کہ وہ اس ”سائیکی“نامی پتھر کو زمین پر لا سکے۔ مذکورہ مشن 2023ءمیں روانہ کیا جائے گا اوراسے اس پتھر تک پہنچنے میں 7سال کا عرصہ لگے گا۔ یہ 2030ءمیں وہاں پہنچے گا اور پتھر کا معائنہ کرکے ناسا کو رپورٹ بھیجے گا۔
یہ بھاری بھر قیمتی پتھرکہاں موجود ہے اور اگر یہ زمین پر آ گرا تو کیا ہو جائے گا؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
Pale Blue Dot
-
سرکاری ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا فیصلہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
-
حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کردیا، نوٹی فکیشن جاری
-
چینی کا استعمال مکمل ختم کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟تحقیق میں حیران کن انکشافات
-
عوام ہو شیا ر ہے! آندھی ، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
ملک بھر میں 25 اور 26 جون کو تعطیل کا امکان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لئے بڑی خوشخبری آگئی
-
امریکا ایران ڈیل، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
ایک ساتھ 4 تعطیلات، سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر آگئی
-
چکوال میں جاں بحق بچی کے والد کا مبینہ آڈیو بیان سامنے آگیا، کیس ہائی پروفائل ڈکلیئر
-
پاکستان بھر میں طوفانی بارشیں، این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری
-
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ
-
ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کا مقام تبدیل کردیا گیا



















































