بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب میں ہمارا کیا کردار ہے؟ فیس بک کے بانی ’’مارک زکربرگ‘‘ نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک ذکربرگ نے اس تنقید کا بھرپور دفاع کیا ہے کہ فیس بک پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مدد ملی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیلیفورنیا میں ایک ٹیکنالوجی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ذکربرگ کا کہنا تھااس کا ذمہ دار فیس بک کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال کہ فیس بک پر جعلی خبریں کسی بھی طرح انتخاب پر اثرانداز ہوئی تھی خاصا پاگل پن ہے۔جب مارک ذکربرگ سے فیس بک جیسی کمپنی میں اس قسم کی جان پڑتال کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ‘لوگ کی خواہشات کا احترام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرا مقصد، اور جس کے بارے میں میں فکر کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ کیا شیئر کرتے ہیں تاکہ ہم کھلے روابط کی ایک دنیا بنا سکیں۔ اس کے لیے نیوز فیڈ کا ایک اچھا ورڑن بنانے کی ضرورت ہے۔ ابھی اس پر کام کرنا ہوگا۔
ہم مزید بہتری لاتے رہیں گے۔اسی تقریب کے دوران مارک ذکربرگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے حوالے سے پرامید خیال پیش کیا کہ ان کے صحت عامہ اور روابط کو بہتر بنانے کے مقاصد کے لیے حکومت کا تعاون ضروری نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کچھ اعداد و شمار سے یہ امر سامنے آیا تھا کہ کچھ جعلی خبریں فیس بک پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی تھی جبکہ ان کی تردید زیادہ شیئر نہیں ہوئی۔ایک بڑی تعداد میں افراد کے لیے، خاص طور پر امریکہ میں، فیس بک خبروں کے حصول کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔فیس بک کی ‘نیوز فیڈ’ اس انداز میں ڈیزائن کی گئی ہے وہ چیز سب سے پہلے دکھائی دیتی ہے جس کے بارے وہ سمجھتا ہے کہ صارفین اس میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔رواں سال کے آغاز میں فیس بک پر ٹرمپ مخالف ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ فیس بک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس کا عملہ لوگوں کے ‘ٹرینڈنگ باکس’ میں لبرل خبریں دکھانے کے لیے طرفداری کر رہا ہے۔اس الزام کی تردید کرتے ہوئے سب سے مشہور خبریں الگورتھم کی رو سے دکھائی دیے جانے کے بجائے ویب سائٹ کے اس حصے سے متعلق اپنا عملہ نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔نتیجتاً وہ خبریں جو بعد میں جعلی ثابت ہوئیں بڑی تعداد میں صارفین کی ٹائم لائن پر دکھائی دینا شروع ہوگئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…