جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اب آپ کوپانی ابالنے کےلئے گیس یالکڑیوں کی ضرورت نہیں ،چینی سائنسدانوں کی ایجاد نے بڑامسئلہ حل کردیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگرکسی آدمی نے پانی کوابالناہوتووہ کسی پتیلے میں پانی پھرکرچولھے پررکھ دیتاہے اورساتھ گیس یالکڑیوں کااستعمال کرکے اس کوگرم کرکے ابالتاہے اوربعض لوگ اس کام کے لئے الیکٹرک ہیٹراستعمال بھی کرتے ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ایساآلہ ایجادکرلیاہے کہ آپ کوگیس یالکڑی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ چین کے مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ آلہ ایجاد کیاہے اوراس ایجاد میں سائنس دانوں نے فوم، حرارت کے موصل مادّے، اور ببل ریپ کا استعمال کیا۔سائنسدانوں کادعوی ہے کہ ان کی ایجاد گھریلوصارفین کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے بلکہ صنعتوں میں بھی اس کواستعمال کیاجاسکتاہے اوراس کااستعمال بھی بہت آسان ہے ۔ ماہرین نے بتایاہے کہ یہ اسفنج گھروں سے زیادہ صنعتوں کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔ صنعتوں میں پانی کو بھاپ بنانے کے لیے عام طور پر گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ سے بھی یہ کام لیا جاتا ہے، جس کے لیے مہنگے عدسے اور آئینے لگائے جاتے ہیں تاکہ وہ شمسی شعاعوں کو پانی پر مرتکز کرسکیں۔ دونوں ہی طریقے مہنگے ہیں، تاہم سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ اسفنج کی مدد سے پانی گرم کرنے پر کئی گنا کم لاگت آئے گی۔واضح رہے کہ یہ اسفنج تانبے کا ایک ٹکڑا ہے جس میں برقی مقناطیسی طیف کے بیش تر حصوں کو جذب کرلینے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب اسے دھوپ میں رکھا جاتا ہے تو یہ حرارت جذب کرتا ہے۔ جب اس پر سے پانی گزارا جاتا ہے تو حرارت کی وجہ سے وہ گرم ہونے لگتا ہے، یہاں تک کہ بھاپ بن جاتا ہے۔ اسفنج کے اوپر ببل ریپ کی تہ چڑھائی گئی ہے جس میں سے گزر کر شمسی شعاعیں اسفنج پر مرتکز ہوجاتی ہیں اور اس کے درجۂ حرارت میں اضافہ کرتی ہیںاورپانی ابلناشروع ہوجاتاہے جبکہ اس کے استعمال سے گیس اوردیگرچیزو ں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔ابتدا میں سائنس دانوں نے ببل ریپ کے بجائے اس ڈیوائس میں گریفائٹ کا استعمال کیا تھا، مگر انھوں نے دیکھا کہ گریفائٹ سے کام لینے کے باوجود بھی حرارت کی بڑی مقدار ضایع ہورہی تھی۔ اس موڑ پر محققین کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سا میٹیریل استعمال کیا جائے جس سے حرارت کا ضیاع کم سے کم ہوجائے۔ ایک روز گانگ چین گھر میں بیٹھا اسی مسئلے پر غور کررہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کھڑکی سے باہر باغیچے میں کوئی سرگرمی انجام دیتی اپنی بیٹی پر پڑی۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کیاریوں پر بنے ہوئے جنگلے کو ببل ریپ سے ڈھانپ رہی ہے۔ماہرین کے خیال میں یہ بات پہلے ہی اس کے علم میں تھی کہ ببل ریپ روشنی کو مرتکز کرتا ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا اور نتیجہ اس کی توقع سے بھی بڑھ کر برآمد ہوا۔ گانگ اور اس کے ساتھی آزمائشی تجربات کے بعد اب اپنی ایجاد میں مزید بہتری لانے کے لیے تحقیق اور تیاری کا کام کررہے ہیں۔ سائنسدانوں نے کہاہے کہ آئندہ برس یہ ایجاد عام فروخت کے لیے پیش کی جاسکتی ہے۔ان کاکہناہے کہ ابھی اسی ایجاد میں مزید تبدیلیاں لائی جائیں گی تواس کااستعمال مزید وسیع پیمانے کےلئے بھی بڑھ جائے گاجبکہ اس کی قیمت بھی عام آدمی کی پہنچ میں ہوگی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…