منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بچے کو تھپڑ مارنے کی پاداش میں پرنسپل کو بچے کے ماموں نے خنجروں کے وار کرکے قتل کر دیا

datetime 4  جولائی  2025 |

کچلاک (این این آئی)کچلاک میں ایک شخص نے خنجروں کے وار کرکے اسکول کے پرنسل کو ہلاک کردیا۔ کچلاک پولیس ذرائع کے مطابق الفلاح پبلک اسکول کلی لنڈی کچلاک کے پرنسپل محمد سکندر کو مبینہ طور پر بچے کے ماموں شمس اللہ ولد معاذ اللہ قوم توخء سکنہ کلی لنڈی نے صبح اسکول کے سامنے خنجروں سے وار کرکے شدید زخمی کردیا،،پولیس کے مطابق موقع پر موجود عینی شاہدین نے کہا کہ قاتل خنجروں کے وار کے دوران بار بار بچے کو کیوں مارا کہتے ہوئے پرنسپل کو لہو لہان کر دیا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پرنسپل محمد سکندر موقع پر ہی جاں بحق ہوا، پولیس نے مقتول پرنسپل محمد سکندر کی لاش کو ایمبولینس کے ذریعے پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا، مقتول پرنسپل محمد سکندر کا تعلق کراچی سے تھا ،

گزشتہ کئی سالوں سے کچلاک کے مختلف پرائیویٹ اسکولوں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے،واضح رہے کہ گزشتہ روز ایم ایس مفتی محمود میموریل ہسپتال کچلاک کی جانب سے کچلاک پولیس، سماجی بہبود اور ایک این جی او کو الفلاح پبلک سکول کلی لنڈی کچلاک کے 13 سالہ طالب علم کو تھپڑوں سے مارنے والے پرنسپل محمد سکندر کے خلاف پولیس کو اطلاعی رپورٹ دینے رپورٹ میں بچے کو سخت زرد وکوب اور انھیں ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔واضح رہے کہ کل بروز جمعرات 03 جولائی 2025کو بچے کے والد نے پرنسپل محمد سکندر سے 10 ہزار روپے تاوان وصول کر کے معاف کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…