اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

انسان کو اب بیوی کی باتیں نہیں بلکہ سوشل میڈیا نفسیاتی مریض بناتی ہے، انتہائی دلچسپ تحریر

datetime 4  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ماہرین کے مطابق فیس بک کے پوسٹس پر کم لائیکس یا کمنٹس ملنے پر لوگوں کے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوکر ہسپتال میں داخل ہونے کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔رانچی انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائیکیاٹری کے شعبہ کلینیکل سائیکالوجی کے چیف ڈاکٹر امول سنگھ رنجن کے مطابق عمر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 مریض سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارنے کے باعث ان کے ہسپتال میں منتقل کیے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ورچیول دنیا اب لوگوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ ہم سوشل میڈیا کی لت کے باعث ہسپتال میں داخل کروائے گئے مریضوں کی تعد پر حیران رہ جاتے ہیں۔اسمارٹ فونز کے استعمال میں اضافے کے باعث سوشل میڈیا کا استعمال صرف شہروں میں ہی نہیں بلکہ دیہاتوں میں بھی کثرت سے شروع ہوگیا ہے تاہم ڈاکٹرز کو خدشہ ہے کہ اس کے باعث لوگ حقیقی دنیا سے دور ہورہے ہیں اور نفسیاتی امراض کا شکار بن رہے ہیں۔ڈاکٹر رنجن نے یہاں ایک لڑکی کی مثال دی جو کاو¿نسلنگ سیشن کے دوران فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی اپنی ایک تصویر اور اس پر ملنے والے ردعمل کے حوالے سے ہی بات کرتی رہی۔انہوں نے بتایا کہ مریضہ نے پورے سیشن کے دوران صرف سوشل میڈیا دوستوں کے بارے میں ہی بات کی جن سے وہ کبھی نہیں ملی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مریضوں کا علاج کاو¿نسلنگ کے ذریعے ممکن ہے تاہم اگر انہیں زیادہ عرصے سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے تو وہ پرتشدد حرکتیں شروع کردیتے ہیں۔ڈاکٹر نیہا سید کے مطابق متعدد افراد فیس بک پر نقل اتارے جانے یا پھر ان کی فرینڈ ریکیوئسٹ مسترد کیے جانے پر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر ماہ کم از کم دس ایسے کیسز ان کے سامنے آتے ہیں جو سوشل میڈیا کے باعث ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں خودکشی کا رجحان بھی موجود ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…