منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

دس ہزار میل کاسفر صرف آدھے گھنٹے میں،نئی ایجاد نے تہلکہ مچادیا

datetime 31  جنوری‬‮  2016 |

اوٹاوا(نیوزڈیسک)ہوائی جہاز کی ایجاد نے دنوں کے سفر کو گھنٹوں میں سمیٹ دیا تو اسے حیرت انگیز انقلاب کا نام دیا گیا، مگر اب ایک ایسے جہاز کی ایجاد کو کیا نام دیا جائے کہ جو زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کے سفر کو منٹوں میں طے کر سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس نئی قسم کے جہاز کا ڈیزائن کینیڈا کے انجینئیر چارلس بومبارڈین نے تیار کیا ہے اور اسے ”اینٹی پوڈ“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ میک 24 کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے ، جو کہ دنیا کے تیز ترین مسافر جہاز کونکورڈ سے 12 گنازیادہ ہے۔ 10 مسافروں کو لے کر یہ طیارہ20,000کلو میٹر کا سفر ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کر سکتا ہے، یعنی اس رفتار پر یہ لندن سے نیویارک تک کا سفر محض 11 منٹ میں طے کر لے گا۔ ان دو شہروں کے درمیان تقریباً ساڑھے 3 ہزار میل کا فاصلہ ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو اسے لاہور سے کراچی کا سفر کرنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگیں گے۔ اسی طرح نیویارک سے سڈنی تک کا طویل ترین فضائی رووٹ، جو کہ تقریباً 10,000 میل پر مشتمل ہے، اس طیارے کیلئے محض آدھے گھنٹے کا کام ہو گا۔کمپنی ’امیجن ایکٹو‘ سے تعلق رکھنے والے انجینئروں کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو مقنا طیسی ریل کہلانے والے ایک لانچر سے انتہائی غیر معمولی رفتار کے ساتھ فضا میں لانچ کیا جائے گا۔طیارے کو میک 4 کی رفتار تک پہنچانے کیلئے مائع آکسیجن یا مٹی کے تیل سے چلنے والے راکٹ استعمال کیے جائیں گے، جس کے بعد سکریم جیٹ انجن اسے آواز کی رفتار سے 10گنا زیادہ رفتار تک لے جائیںگے۔ اس سے پہلے ڈیزائن کیے گئے غیر معمولی رفتار کے حامل سکریمرجیٹ کے برعکس اینٹی پوڈ میں یہ صلاحیت ہو گی کہ اسے کسی بھی ائیرپورٹ سے راکٹ بوسٹرز کے ذریعے فضا میں چھوڑا جا سکے گا۔ میک 5رفتار پر پہنچنے کے بعد جہاز میں موجود کمپیوٹرسسٹم ریم جیٹ انجن کو آن کرے گا جو اس کی رفتار کو میک 24 تک لے جائے گا۔ ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی پوڈ سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا سفر اس قدر مختصر ہو جائے گا کہ گویا آپ ایک ملک سے دوسرے ملک نہیں بلکہ گھر سے نکل کر قریبی مارکیٹ تک جا رہے ہوں۔طیارے کا خیال پیش کرنے والے کینیڈین موجد چارلس بومبارڈین کہتے ہیں کہ عالمی بحرانوں کی صورت میں یہ طیارہ اعلی سطحی حکام کو محض کچھ گھنٹوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچا سکیں گے۔ یاد رہے کہ 2003 میں کانکارڈ طیارے پر پابندی کے بعد تیز رفتار طیارے بنانے کی دوڑ شروع ہو گئی تھی۔ گزشتہ سال امریکی خلائی ادارے ناسا نے سپر سانک پروازوں کی تحقیق کیلئے 23 لاکھ ڈالرز مختص کیے تھے :-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…