ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

دمدار ستارے پر اترنے والے خلائی روبوٹ میں پھر حرکت

datetime 15  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) نے کہا ہے کہ پی 67 نامی دمدار ستارے پر اترنے والے خلائی روبوٹ میں پھر حرکت پیدا ہوئی ہے اور اس نے زمین سے رابطہ کیا ہے۔اس ستارے پر اترنے والے پہلے خلائی روبوٹ ’فیلے‘ کو اس کے ’مدر شپ‘ روزیٹا نے گذشتہ برس نومبر میں روانہ کیا تھا۔اس نے ستارے کی سطح پر اترنے کے بعد 60 گھنٹے کام کیا لیکن اس کے بعد اس کی شمسی توانائی والی بیٹری جاتی رہی اور وہ ’چپ‘ ہو گیا۔ جوناتھن آموس کہتے ہیں کہ اب پی 67 کے سورج کے قریب جانے کی وجہ سے فیلے میں ایک مرتبہ پھر اتنی توانائی آ گئی ہے کہ وہ دوبارہ کام کر سکے۔دوبارہ جاگنے کے بعد فیلے نے اپنا یہ پیغام ٹویٹ کیا ہے: ’ہیلو زمین! کیا تم مجھے سن سکتی ہو۔‘خلائی ایجنسی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ فیلے نے روزیٹا کے ذریعے زمین سے 85 سیکنڈ تک رابطہ رکھا۔ یہ اس کا گذشتہ نومبر سے بے حس و حرکت رہنے کے بعد پہلا رابطہ ہے۔فیلے کے پراجیکٹ مینیجر سٹیفن الامیک نے کہا ہے کہ ’فیلے بہت بہتر کام کر رہا ہے۔ اس کے لیے کام کرنے کا درجہ حرارت -35 سینٹی گریڈ ہے اور اس کے پاس 24 واٹس توانائی بھی ہے۔‘فیلے کا ’جاگنے‘ کے بعد پہلا پیغام سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ دوسرے رابطے کا انتظار کر رہے ہیں۔فیلے کو ستارے پر برف اور پتھر کے تجزیے کے لیے بھیجا گیا تھا۔روزیٹا کو ستارے پر پہنچتے ہوئے 10 سال لگے تھے۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی خلائی جہاز نے کسی ستارے کی سطح پر قدم رکھا ہو۔فیلے کا حجم ایک واشنگ مشین جتنا ہے اور یہ ستارے کی سطح کے ساتھ ٹکرانے کے بعد تقریباً ایک کلو میٹر اوپر اچھلا تھا۔زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور واقع پی 67 نامی دمدار ستارے پر اتارے جانے والے خلائی روبوٹ نے اپنی بیٹری کے خاتمے سے قبل کافی معلومات زمین پر بھیجیں اور سائنسدانوں کے مطابق اس مختصر روبوٹ سے جس کارکردگی کی امید تھی، وہ اپنی ذخیرہ شدہ توانائی کے خاتمے سے قبل بھیج چکا ہے۔سائنسدانوں کو یہ تو اندازہ تھا کہ روبوٹ کہاں ہو سکتا ہے لیکن اس کی حتمی نشاندہی کرنا ایک مشکل کام تھا۔ای ایس اے فیلے کی پیداری پر بہت خوش ہےفیلے کو ستارے پر بھیجنے والے مصنوعی سیارے روزیٹا نے بھی ستارے کی تصاویر بھیجی تھیں لیکن ان میں بھی فیلے کا کوئی پتہ نہیں چلا تھا۔فیلے 12 نومبر کو پی67 نامی ستارے پر اترا تھا، جہاں سے وہ کافی مواد بھیجنے کے بعد خاموش ہو گیا تھا۔سائنسدانوں کو یقین تھا کہ اگر فیلے کی نشاندہی نہ بھی ہو سکی تو پھر بھی فیلے خود ہی کبھی نہ کبھی اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔انھیں یقین تھا کہ جب پی 67 سورج کے قریب پہنچے گا تو اس سے روبوٹ کے لیے روشنی کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی اور اس کے شمسی توانائی کے پینلوں کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…