جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

سائنسدان: پہلی مرتبہ چمپینزی کی الکحل سے رغبت کے ثبوت ملے ہیں

datetime 10  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سائنسدانوں کو پہلی مرتبہ چمپینزی یا لنگوروں کی الکحل سے رغبت کے ثبوت ملے ہیں۔محققین نے مغربی افریقہ کے ملک گنی میں لنگوروں کے پام کے درختوں پر چڑھنے اور وہاں موجود قدرتی طور پر تیار شدہ ’پام سیپ‘ یا نشہ آور ایتھینول پینے کے مناظر ریکارڈ کیے ہیں۔ان لنگوروں میں سے کچھ بہت دیر تک یہ مشروب پیتے رہے اور شراب کی ایک بوتل جتنا مشروب پینے کے بعد واضح طور پر ان پر اس کے اثرات دکھائی دیے اور وہ جلد ہی مدہوش ہو کر سو گئے۔ان شواہد سے محققین اس نیتیجے پر پہنچے ہیں کہ الکحل کے لیے رغبت صرف انسان میں ہی نہیں پائی جاتی بلکہ اس کا دائرہ جانوروں تک پھیلا ہوا ہے۔
اس 17 سالہ تحقیق کے رائل سوسائٹی اوپن سائنس نامی رسالے میں شائع ہونے والے نتائج میں کہا گیا ہے کہ رفیا پام نامی درختوں پر قدرتی طور پر تیار ہونے والا نشہ آور مادہ چمپینزیوں کو سب سے پسند آیا۔
یہ تحقیق گنی میں بساو¿ کے علاقے میں کی گئی جہاں کی آبادی پام کے درختوں سے یہ نشہ آور مشروب جسے ’پام وائن‘ کہا جاتا ہے حاصل کرتے ہیں۔اس کے لیے یہ درختوں کے تنوں پر کٹاو¿ کر کے وہاں پلاسٹک کے برتن لگا دیتے ہیں جن میں اس سے نکلنے والا رس جمع ہوتا ہے۔لنگوروں میں سے کچھ بہت دیر تک یہ مشروب پیتے رہے اور شراب کی ایک بوتل جتنا مشروب پینے کے بعد واضح طور پر ان پر اس کے اثرات دکھائی دیے اور وہ جلد ہی مدہوش ہو کر سو گئے علاقے میں کام کرنے والے محققین نے چمپینزیوں کو گروہوں کی شکل میں ان درختوں پر چڑھتے اور اس رس کو پیتے دیکھا۔اس عمل کے لیے وہ درخت کے پتوں کو چبا کر انھیں ایک سپونج کی شکل دے لیتے اور انھیں رس میں ڈبو کر چوستے پائے گئے۔محققین کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کمبرلی ہاکنگز کے مطابق کچھ لنگوروں نے تو 85 ملی لیٹر الکحل پیا جو کہ تقریباً شراب کی ایک بوتل کے برابر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ’شراب نوشی‘ کے چمپینزیوں پر واضح اثرات دکھائی دیے اور ان میں سے کچھ تو یہ پیتے ہی مدہوش ہوگئے جبکہ ایک نر چیمپینزی خاص طور پر بےچین دکھائی دیا۔سینٹ اینڈیوز یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھرین ہوبیٹر کا کہنا ہے کہ اس رویے پر مزید اور جامع تحقیق شاندار بات ہوگی جیسے کہ کیا چمپینزی الکحل کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں یا زیادہ مشروب پینے والے لنگور ہینگ اوور کا شکار تو نہیں ہوتے۔انھوں نے کہا ’تحقیق کے نتائج جو بھی ہوں یہ بات طے ہے کہ ساٹھ برس کی تحقیق کے بعد یہ چمپینزی ہمیں مسلسل حیران ضرور کر رہے ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…