جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سائنسدان: پہلی مرتبہ چمپینزی کی الکحل سے رغبت کے ثبوت ملے ہیں

datetime 10  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سائنسدانوں کو پہلی مرتبہ چمپینزی یا لنگوروں کی الکحل سے رغبت کے ثبوت ملے ہیں۔محققین نے مغربی افریقہ کے ملک گنی میں لنگوروں کے پام کے درختوں پر چڑھنے اور وہاں موجود قدرتی طور پر تیار شدہ ’پام سیپ‘ یا نشہ آور ایتھینول پینے کے مناظر ریکارڈ کیے ہیں۔ان لنگوروں میں سے کچھ بہت دیر تک یہ مشروب پیتے رہے اور شراب کی ایک بوتل جتنا مشروب پینے کے بعد واضح طور پر ان پر اس کے اثرات دکھائی دیے اور وہ جلد ہی مدہوش ہو کر سو گئے۔ان شواہد سے محققین اس نیتیجے پر پہنچے ہیں کہ الکحل کے لیے رغبت صرف انسان میں ہی نہیں پائی جاتی بلکہ اس کا دائرہ جانوروں تک پھیلا ہوا ہے۔
اس 17 سالہ تحقیق کے رائل سوسائٹی اوپن سائنس نامی رسالے میں شائع ہونے والے نتائج میں کہا گیا ہے کہ رفیا پام نامی درختوں پر قدرتی طور پر تیار ہونے والا نشہ آور مادہ چمپینزیوں کو سب سے پسند آیا۔
یہ تحقیق گنی میں بساو¿ کے علاقے میں کی گئی جہاں کی آبادی پام کے درختوں سے یہ نشہ آور مشروب جسے ’پام وائن‘ کہا جاتا ہے حاصل کرتے ہیں۔اس کے لیے یہ درختوں کے تنوں پر کٹاو¿ کر کے وہاں پلاسٹک کے برتن لگا دیتے ہیں جن میں اس سے نکلنے والا رس جمع ہوتا ہے۔لنگوروں میں سے کچھ بہت دیر تک یہ مشروب پیتے رہے اور شراب کی ایک بوتل جتنا مشروب پینے کے بعد واضح طور پر ان پر اس کے اثرات دکھائی دیے اور وہ جلد ہی مدہوش ہو کر سو گئے علاقے میں کام کرنے والے محققین نے چمپینزیوں کو گروہوں کی شکل میں ان درختوں پر چڑھتے اور اس رس کو پیتے دیکھا۔اس عمل کے لیے وہ درخت کے پتوں کو چبا کر انھیں ایک سپونج کی شکل دے لیتے اور انھیں رس میں ڈبو کر چوستے پائے گئے۔محققین کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کمبرلی ہاکنگز کے مطابق کچھ لنگوروں نے تو 85 ملی لیٹر الکحل پیا جو کہ تقریباً شراب کی ایک بوتل کے برابر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ’شراب نوشی‘ کے چمپینزیوں پر واضح اثرات دکھائی دیے اور ان میں سے کچھ تو یہ پیتے ہی مدہوش ہوگئے جبکہ ایک نر چیمپینزی خاص طور پر بےچین دکھائی دیا۔سینٹ اینڈیوز یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھرین ہوبیٹر کا کہنا ہے کہ اس رویے پر مزید اور جامع تحقیق شاندار بات ہوگی جیسے کہ کیا چمپینزی الکحل کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں یا زیادہ مشروب پینے والے لنگور ہینگ اوور کا شکار تو نہیں ہوتے۔انھوں نے کہا ’تحقیق کے نتائج جو بھی ہوں یہ بات طے ہے کہ ساٹھ برس کی تحقیق کے بعد یہ چمپینزی ہمیں مسلسل حیران ضرور کر رہے ہیں۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…