جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ میں سائنس وٹیکنالوجی کے صرف 1کروڑ مختص

datetime 6  جون‬‮  2015 |

کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق کے جیسے 17 ادارے اس وزارت کے تحت ہیں،جنہیں کئی برسوں سے ریسرچ کی فنڈنگ سے محروم رکھا گیا ہے۔تحقیق کے لیے فنڈز کی قلت کے باوجود یہ محکمے قابلِ تجدید توانائی، صحت، ادویات، زراعت اور پانی کی طرز کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔وزارتِ سائنس کے ایک سینئر عہدے دار نے بتایا کہ ”ہم نے حکومت پر زور دیا تھا کہ اسرائیل، کوریا اور جاپان کی مثالوں کی پیروی کرے، ان ملکوں نے تحقیق و ترقی کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تحقیق و ترقی کے لیے فراہم کیا جانے والا فنڈ ملک کی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 0.29 فیصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ اس رقم کو کم از کم دگنا کرکے جی ڈی پی کے 0.5 فیصد تک کیا جائے اور اس میں 2018ءتک چار گنا اضافہ کیا جائے۔وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ تحقیق کے لیے فنڈنگ کی کمی برین ڈرین کا سبب بن رہی ہے۔ مغرب اور مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے پاکستانی سائنسدانوں کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔مذکورہ عہدے دار نے کہا کہ آخری مرتبہ 2007-08ء میں ان اداروں کو مناسب فنڈز موصول ہوئے تھے، جب بیرون ملک سے امدادی رقم پاکستان آرہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس کو آج جو فنڈز فراہم کیے جارہے ہیں، وہ اس سے بھی کم ہیں، جب چالیس سال پہلے اس ادارے کے قیام کے وقت اس کو فراہم کیے گئے تھے۔ جبکہ پی سی ایس آئی آر کو تقریباً پانچ لاکھ روپے 70 سے زیادہ تحقیقی منصوبوں کے لیے دیے گئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…