جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امریکی ایئرفورس: تیز رفتار طیارےکا کامیاب تجربہ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) امریکی ایئرفورس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے تیز رفتار طیارے کی تیاری کے کامیاب تجربات کئے ہیں جو کہ لندن سے نیویارک کا سفر صرف ایک گھنٹے میں طے کرسکے گا۔ ایئرفورس کو امید ہے کہ یہ طیارہ2023تک اپنی پہلی اڑان بھر سکے گا۔ ایئرفورس چیف سائنٹسٹ میکا اینڈسلے کے مطابق ہائپرسونک پروجیکٹ کے سلسلے میں متعدد کامیاب تجربات کئے جاچکے ہیں۔ ایئرفورس کے ان تجربات کا بنیادی مقصد میزائل بردار طیاروں کی تیاری ہے جو کہ گھنٹوں کے بجائے منٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرسکیں۔ اس سلسلے میں مارچ میں ایکس فائیو ون کا تجربہ کیا گیا تھا۔ میکا کے مطابق یہ تجربہ کامیاب تھا اور امید ہے کہ مستقبل میں اس حوالے سے بہتر تکنیک کے ہمراہ تجربے کئے جائیں گے۔ اس طیارے نے دوران تجربہ پانچ اعشاریہ ایک ماک تک رفتار پکڑی تھی۔
عام جہاز آکسیجن اور فیول دونوں کی مدد سے اڑان بھرتے ہیں تاہم مذکورہ سسٹم جسے سکرم جیٹ بھی کہتے ہیں، کے تحت تیار کئے گئے انجن میں ہائیڈروجن فیول کی صورت میں ہوتی ہے جو کہ جلنے کیلئے فضا سے ہی آکسیجن کھینچتی ہے۔ امریکی ایئرفورس اگر اس انجن کو کامیابی سے اپنے فوجی بیڑے میں شامل کرگئی تو یہ امریکی فوج کے دفاع کو مزید ناقابل تسخیر بنا دے گی کیونکہ اس طرح کے انجن کے حامل طیاروں میں میزائل اور دیگر بم برسانا زیادہ محفوظ ہوگا۔ خاص کر ایسے علاقے جہاں زمین سے فضا میں جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا امکان موجود ہو، وہاں پر یہ طیارہ اپنی رفتار کی وجہ سے ایک محفوظ ذریعہ ثابت ہوگا۔ امریکی ایئرفورس تجرباتی طور پر ایک ایسا ایر کرافٹ پہلے ہی تیار کرچکی ہے جو کہ آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیزی سے حرکت کرتا ہے۔ حالیہ تجربے کے تحت بنائے گئے طیاروں پر جنگی سامان، اسلحہ اور گولہ بارود برسانے کا کام بھی انتہائی سرعت سے کیا جاسکے گا۔امریکی فوج اس پروگرام پر تاحال تین سو ملین ڈالر خرچ کرچکی ہے اور ادارے کا کہنا ہے کہ اس انجن کی صلاحیت کو جانچنے کا یہ آخری تجربہ تھا۔ امریکہ مذکورہ پروگرام کے ذریعے پوری دنیا میں کہیں بھی ساڑھے تین ہزارمیل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتے ہوئے پہنچنا چاہتا ہے۔ امریکی ایئرفورس کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے بعد اب اس امر پر غور کیا جائے گا کہ مذکورہ پروگرام کو کمرشل ہوا بازی کے لئے کس طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ اگر اس پیش رفت میں امریکی کامیاب رہے توہوا بازی کی صنعت ایک انقلابی تبدیلی کے عمل سے گزرے گی جہاں ہر فضائی کمپنی پر ایسے ہی جدید انجنز خریدنے کیلئے شدید دباو¿ ہوگا۔ اس پروگرام کے ہمراہ ایئرفورس نے ہائیپر سانک ایئربریدنگ ویپن کانسیپٹ، اور ٹیکٹیکل بوسٹ گلائیڈ ٹیکنالوجی پر بھی کام کیا ہے۔ ان کی تجرباتی فلائٹس2018میں ہوں گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…