جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

گوگل : سب سے زیادہ مستری کی تلاش

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )مصر میں رہنے والا ایک مستری غیر متوقع طور پر راتوں رات اتنا مشہور ہو گیا ہے کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ ’تلاش‘ اسی کی ہوتی ہے۔ایسا بھی موقع آیا کہ اگر مصر میں کوئی بھی گوگل سرچ انجن میں ’گوگل‘ کا لفظ لکھ تلاش کرتا تو اس کے سامنے سب سے پہلے صابر الطونی کا صفحہ آتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صابر الطونی کے کاروبار میں گوگل کا لفظ ’کِی ورڈ‘ کے طور پر شامل نہیں اور نہ اس لفظ کا ان کے کاروبار سے کوئی تعلق ہے۔ان کے ’گوگل پلس‘ کے صفحے کو چالیس لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔گوگل کا کہنا ہے کہ وہ اس کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہے اور ایسے لگتا ہے کہ اب صورتِ حال درست ہوگئی ہے۔اس حیرت ناک بات کا علم سب سے پہلے ایاد نور کو ہوا جو مصر میں ڈیجیٹل مارکیٹ میں کام کرتے ہیں اور انھوں نے اس بارے میں ’میڈیم‘ نامی پلیٹ فارم پر لکھا۔ جب ایاد نور نے صابر الطونی سے رابطہ کیا تو مسٹر الطونی نے بتایا کہ انھوں نے اپنے صفحے کی تشہیر کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔صابر الطونی اپنی اچانک شہرت سے بھی بے خبر تھے البتہ انھیں فون بہت زیادہ آنے شروع ہو گئے تھے۔ انھوں نے ایاد نور سے بات کرتے ہوئے کہا ’اچھا تولوگ یہ سمجھتے ہیں میں گوگل کی ہی ایک کمپنی ہوں۔‘حالیہ برسوں میں سرچ انجن آپٹیمائزیشن (ایس ای او) ایک بڑا کاروبار بن گیا ہے کیونکہ کمپنیاں چھوٹی ہوں یا بڑی، سرچ انجن کی فہرست میں اپنے تعارفی خاکے کو بلند ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں۔کمپنیاں اپنی درجہ بندی بڑھانے کے لیے کئی ترکیبیں استعمال کرتی ہیں جبکہ ایس ای او کی فرمیں مختلف طرح کی خدمات کی پیشکش کرتی ہیں جن میں جب سرچ انجن میں کسی کمپنی کو تلاش کیا جا رہا ہو، عین اسی وقت کمپنی کو اس تلاش کا حساب و شمار بھی مل جاتا ہے۔اس کے علاوہ اسے ان بہترین لِنکس کا بھی علم ہو جاتا ہے جن سے کمپنیاں درجہ بندی میں اوپر چلی جاتی ہیں۔ایاد نور کو اس معاملے کی جو واحد توجیہہ ملی وہ یہ ہے کہ صابر الطونی نے اپنے گوگل پلس کے صفحے کی ویب سائٹ کی فیلڈ پر اپنا ٹوئٹر ہینڈل ’ssabereltony‘ ڈال دیا تھا۔اگر یہ توجہیہ درست ثابت ہوئی تو مطلب یہ ہوگا کہ ’اگر آپ گوگل کو پیچھے چھوڑنا چاہیں تو اپنے گوگل پلس پروفائل پر ویب سائٹ کے یو آر ایل کو بدل دیں۔‘سرچ انجن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے قائم فرم ’کوزائی‘ کے اولیور ایوبنک نے بی بی سی کو بتایا ’گوگل پلس کے پروفائل عموماً اچھے نتائج دکھاتے ہیں لیکن اس سطح پر نہیں (جیسے الطونی کے معاملے میں ہوا ہے)۔‘انھوں نے کہا ’صابر الطونی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک اچھا حادثہ تھا لیکن گوگل کمپنی کے لیے ایک غلطی تھی۔چونکہ گوگل کمپنی توافق پر فخر کرتی ہے لہذا وہ چاہے گی کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…