پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

نو کیا کا یہ تاریخی فون ایک مرتبہ پھر انتہائی تیزی سے مقبول ہونے لگا،وجہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

datetime 26  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) آج کا دور سمارٹ فون کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا دور ہے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ آج سے 15 سال قبل متعارف کروایا جانے والا نوکیا کا فون 8210 ایک دفعہ پھر حیران کن مقبولیت حاصل کرچکا ہے اور اس مقبولیت کی وجہ مزید حیران کن ہے۔
برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ جرائم پیشہ گینگ اور خصوصاً سمگلر نوکیا 8210 کے دیوانے ہیں اور وائی فائی، جی پی ایس اور بلیوٹوتھ جیسی ٹیکنالوجی سے لیس سمارٹ فونز کی نسبت اسے استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق جرائم پیشہ افراد اس فون کو اپنی کارروائیوں اور شناخت کو خفیہ رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اخبار ”دی مرر“ کے مطابق برمنگھم شہر سے تعلق رکھنے والے ڈرگ ڈیلر، جسے K2کا نام دیا گیا ہے، نے بتایا کہ اس فون کے استعمال کا فائدہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا سراغ نہیں لگاسکتے اور اس میں سے استعمال کرنے والے کی شناخت نہیں ڈھونڈی جاسکتی جس میں انفراریڈ ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی مدد سے معلومات کا تیزی سے تبادلہ ہوسکتا ہے اور اس کی بیٹری کا 150 گھنٹے کا سٹینڈبائے ٹائم بھی مجرموں کے لئے مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ مجرم اس کے چھوٹے سائز کی وجہ سے بھی اسے پسند کرتے ہیں۔ ڈرگ ڈیلر کا کہنا ہے کہ جی پی ایس اور وائی فائی والے جدید سمارٹ فونز کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بآسانی مجرموں کی کسی جگہ موجودگی کا اندازہ لگالیتے ہیں اور ان کی کالز کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس نوکیا 8210 استعمال کرنے سے یہ مسائل عموماً پیش نہیں آتے۔
فون فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے اخبار کو بتایا کہ انہیں یہ تو پتہ نہیں نوکیا 8210 اتنا مقبول کیوں ہورہا ہے لیکن وہ یہ بتاسکتے ہیں کہ ان کے پاس جب بھی یہ فون آتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہوجاتا ہے اور بعض خریدار تو اسے منہ مانگے داموں میں خرید کر لے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…