ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

دوران پرواز وائی فائی استعمال کر نے کو تباہ کن قرار دیدیا : امر یکی ماہرین

datetime 17  اپریل‬‮  2015 |

نیویارک (نیوز ڈیسک)فیس بک کے عادی افراد بورڈنگ پاس لینے کے بعد جب چیک ان سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں تو انہیں سفر کی خوشی تو ہوتی ہے تاہم فیس بک سے اگلے چند گھنٹوں کی دوری دکھی بھی کرتی ہے۔ ایسے افراد کی تو بس یہی دلی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح کوئی ایسی ٹیکنالوجی آجائے جس میں سطح زمین سے 30ہزار فٹ کی بلندی پر بھی وائی فائی کنیکٹیویٹی ممکن ہوسکے۔ ایسی خواہش رکھنے والوں کی یہ خواہش یقینی طور پر اس تحقیق کو پڑھنے کے بعد دم توڑ جائے گی جسے امریکی ایجنسیوں نے جاری کیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق اگر ہوائی جہاز کو وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ کی دنیا سے جوڑا گیا تو ایسے میں ہوائی جہاز میں سوار مسافر اور عملے کے ارکان دہشت گردی کے خطرے اور ہیکرز کے نشانے پر آسکتے ہیں۔
گورنمنٹ اکاو¿نٹیبلیٹی آفس کے مطابق جدید ایئر کرافٹس جن میں وائی فائی سہولت کی موجود ہے، میں موجود کمپیوٹر آلات کو فلائٹ میں موجود وائی فائی نیٹ ورکس یا پھر زمین پر موجود افراد کیلئے ہیک کرنا ممکن ہے۔ سائبر سیکیورٹی افسران کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے کاک پٹ کا زمین سے رابطہ قائم کرنا ایسے ہی جیسا کہ کاک پٹ میں کسی بھی شخص کو آمد کی اجازت دے دینا۔ جدید جہازوں میں سائبر حملوں سے بچانے کیلئے خصوصی فائروالز موجود ہوتے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی ایسے سافٹ ویئرز کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ فائروال میں داخل ہوکے بھی کوئی سائبر حملہ کیا جاسکتا ہے۔ فائر والا محض سیکیورٹی سافٹ ویئرز کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لئے اسے دیگر کسی بھی سافٹ ویئر کی مدد سے ہیک کیا جاسکتا ہے۔ یہ صورتحال اس لئے مزید خطرناک ہوچکی ہے کہ سمارٹ فونز اور موبائل ڈیوائسز کی موجودگی کی وجہ سے اب ہوائی جہاز میں موبائل کا استعمال عام ہوچکا ہے۔ فی الوقت دنیا کی چند بڑی کمپنیز اپنے جدید ترین ہوائی جہاز کے ماڈلز اور اچھی کلاس کے مسافروں کو انٹرنیٹ کے استعمال کی سہولت فراہم کرتی ہیں تاہم یہ سہولت محدود ہوتی ہے جبکہ مذکورہ تحقیق وائی فائی کے ویسے ہی آزادانہ استعمال کے بارے میں ہے جیسا کہ اسے زمین پر استعمال کیا جاتا ہے۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…