ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

مریخ پر نائٹروجن کی دریافت۔۔۔۔

datetime 26  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ناسا کی جانب سے بھیجے گئے روبوٹ نے سیارہ مریخ کی سطح پر زندگی کے لیے ضروری تصور کی جانے والی نائٹروجن کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جسے ایک اہم دریافت قراردیا جارہا ہے۔زمین پر نائٹروجن گیس کے دو ایٹم مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں جو زندگی کے لیے انتہائی ضروری تصور کئے جاتے ہیں تاہم مریخ پر نائٹرک آکسائیڈ کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں وہاں نائٹروجن گیس موجود تھی جب کہ اب ناسا کی جانب سے بھیجے گئے روبوٹ نے مریخ پر تین مقامات سے نائٹرک آکسائیڈ دریافت کیا ہے۔ناسا کی جانب سے بھیجے گئے اس خلائی روبوٹ ”کیوروسٹی“ نے میںموجود جدید لیبارٹری میں مریخی مٹی اور پتھروں کا تجزیہ کرنے کی سہولت موجود ہے اور اس لیب کی سیمپل اینالسس ایٹ مارس ( ایس اے ایم) آلات نے پہلی مرتبہ مریخ پر نائٹرک آکسائیڈ کا انکشاف کیا ہے۔کیوروسٹی سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نائٹرک آکسائیڈ ان نائٹریٹس سے بنی ہے جو ماضی میں مریخ پر بجلی چمکنے یا شہابیوں کے تصادم کی وجہ سے بنے تھے، نائٹرک آکسائیڈ کے یہ نمونے مریخ کے مشہور گڑھے ،گیل کریٹر سے ملے ہیں جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ماضی میں یہاں کبھی دریا یا جھیل موجود تھی۔اس سے قبل مریخ پر ایک اور اہم دریافت بھی نوٹ کی گئی جسے ”فیٹی ایسڈ“ کہا جاتا ہے، فیٹی ایسڈ تمام جانداروں کے خیلات (سیلز) کی جھلی بناتے ہیں تاہم یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی حیاتی عمل کے ذریعے وہاں موجود ہوں کیونکہ وہ دوسرے کیمیائی طریقوں سے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ کیوروسٹی خلائی روبوٹ 6 اگست 2012 کو مریخ پر اترا تھا جس کی اب تک مریخ پر سرگرمیاں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…