مظفرآباد (این این آئی) 8اکتوبر 2005کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو 21سال ہو گئے۔8اکتوبر2005میں صبح ساڑھے 8بجے آنے والے شدید زلزلے سے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا ہ کے علاقوں کو بڑا نقصان پہنچا تھا، زلزلے کی شدت 8.1 ریکارڈ کی گئی تھی،
اس زلزلے سے 86 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور69 ہزار زخمی ہوگئے تھے۔ لاکھوں مکانات مکمل اور جزوی طور پر تباہ ہوئے، سکول، سرکاری و نجی عمارتیں، پل، سڑکیں تباہ ہوئیں۔آٹھ اکتوبر 2005 پاکستان بالخصوص آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس کی یاد آج بھی دلوں کو سوگوار اور آنکھوں کو اشک بار کر دیتی ہے،صبح کا وقت تھا، لوگ اپنے معمولات میں مصروف تھے، بچے اسکولوں میں زیرِ تعلیم تھے، دفاتر اور بازار معمول کے مطابق کھل رہے تھے کہ اچانک زمین نے ایسی کروٹ لی جس نے چند ہی لمحوں میں بستیوں، گھروں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، سڑکوں اور پلوں سمیت زندگی کے پورے نظام کو تہہ و بالا کر دیا۔ یہ صرف ایک زلزلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی قومی آزمائش تھی جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے گئے۔8 اکتوبر 2005 کو آنے والے اس شدید زلزلے کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی۔ اس کا مرکز آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے تقریبا 19 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا اور اس کی گہرائی تقریبا 26 کلومیٹر بتائی گئی۔ زلزلے نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں سمیت خطے کے دیگر حصوں کو شدید متاثر کیا۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں گرنے کے باعث متعدد شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، جس سے امدادی سرگرمیوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تباہی کا وہ منظر جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی زلزلے کے چند لمحوں نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ کہیں پوری بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، کہیں گھروں کی چھتیں زمین بوس ہوئیں، کہیں اسکولوں کی عمارتیں منہدم ہوئیں اور کہیں ہسپتال خود متاثرین کی مدد کے محتاج ہو گئے۔سرکاری و امدادی جائزوں کے مطابق اس سانحے میں 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، تقریبا 69 ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر اور متاثر ہوئے۔ تقریبا 30 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا اور لاکھوں مکانات کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ آزاد کشمیر میں مکانات کے بڑے حصے کو نقصان پہنچا، جبکہ ہزاروں تعلیمی و صحت کے مراکز بھی متاثر ہوئے۔یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی داستان ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، اپنے گھر اجڑتے دیکھے اور ایک ہی لمحے میں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔سکولوں کے ملبے تلے دبے خواب 8اکتوبر کے سانحے کا سب سے المناک پہلو بچوں اور تعلیمی اداروں کا متاثر ہونا تھا۔ ایسے کئی مقامات تھے جہاں صبح کے وقت بچے اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے اسکول پہنچے تھے، مگر چند لمحوں بعد وہی تعلیمی ادارے ملبے کا ڈھیر بن گئے۔اس سانحے نے پوری قوم کو یہ احساس دلایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف امدادی صلاحیت کافی نہیں بلکہ محفوظ تعمیرات، عمارتوں کے حفاظتی معیار، اسکول سیفٹی، ہسپتالوں کی تیاری اور عوامی آگاہی بھی ناگزیر ہے۔(قدرت کی آزمائش، قوم کا بے مثال ردِعمل)زلزلے کی تباہ کاری بے مثال تھی، مگر اس کے مقابلے میں پاکستانی قوم کا جذبہ بھی بے مثال رہا۔ افواجِ پاکستان، سول انتظامیہ، پولیس، ریسکیو اداروں، ڈاکٹرز، نرسز، رضاکاروں، فلاحی تنظیموں، طلبہ، میڈیا اور عام شہریوں نے امدادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ملک کے مختلف حصوں سے امدادی سامان، خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر ضروری اشیا متاثرہ علاقوں تک پہنچائی گئیں۔ مشکل پہاڑی راستوں، منقطع مواصلاتی رابطوں اور موسم کی سختیوں کے باوجود امدادی ٹیموں نے متاثرین تک پہنچنے کے لیے دن رات کام کیا۔حکومت نے ہنگامی امداد اور بحالی کے بعد طویل المدتی تعمیر نو کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کیے۔ زلزلے کے بعد آزاد کشمیر کے عوام نے جس عزم، حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جن علاقوں میں زندگی کا پہیہ رک گیا تھا وہاں رفتہ رفتہ دوبارہ رونقیں بحال ہوئیں۔ تباہ شدہ مکانات کی جگہ نئے اور نسبتا محفوظ گھر تعمیر ہوئے، اسکول دوبارہ آباد ہوئے، ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی تعمیر و بحالی ہوئی،
سڑکوں اور پلوں کا نظام بہتر بنایا گیا اور مواصلاتی رابطے بحال کیے گئے,یہ تعمیرِ نو محض اینٹوں، پتھروں اور سیمنٹ سے عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ انسان کے حوصلے، امید اور مستقبل پر یقین کی تعمیر نو بھی تھی۔8 اکتوبر ہمیں اپنے پیاروں کی یاد دلاتا ہے، ان خاندانوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے عزیز کھوئے، ان بچوں کی یاد دلاتا ہے جن کے خواب ملبے تلے دفن ہوگئے اور ان ہزاروں خاندانوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی دوبارہ صفر سے شروع کی۔تاہم یہ دن صرف سوگ کا دن نہیں بلکہ قومی استقامت، اتحاد اور عزم کا دن بھی ہے۔8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ تاریخ کا ایک دردناک باب ہے، لیکن اس کے بعد آزاد کشمیر کی تعمیرِ نو، عوام کا حوصلہ اور پوری قوم کی یکجہتی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم بڑے سے بڑے سانحے کے بعد بھی اٹھ کھڑی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ،آج جب ہم اس عظیم سانحے کی یاد مناتے ہیں تو ہمارا پیغام واضح ہے ہم اپنے شہدا کو نہیں بھولے، ہم متاثرین کے دکھ کو نہیں بھولے اور ہم اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو بھی کبھی فراموش نہیں کریں گے ،اللہ تعالی 8 اکتوبر 2005 کے تمام شہدا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور آزاد جموں و کشمیر سمیت پورے پاکستان کو امن، سلامتی، خوشحالی اور قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔



















































