راولپنڈی (نیوز ڈیسک) حنا جاوید قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، گھریلو ملازم ذیشان نے دورانِ تفتیش خاتون کے قتل کا اعتراف کرلیا،
تاہم شوہر فیصل اصغر نے اپنے اوپر لگائے گئے الزام کو مسترد کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں مرکزی ملزمان کے ڈی این اے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور میں حاصل کرکے ٹیسٹ مکمل کرلیے گئے ہیں۔ فرانزک کارروائی کے وقت مقتولہ کے بھائی فہد جاوید بھی موجود تھے۔
ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر، سسر اصغر علی اور گھریلو ملازم ذیشان کو لاہور لایا گیا تھا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد راولپنڈی پولیس تینوں افراد کو واپس لے کر روانہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران گھریلو ملازم ذیشان نے حنا جاوید کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے مبینہ طور پر واردات کے عوض ایک لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب فیصل اصغر نے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ ان کے والد اصغر علی نے بھی واقعے میں کسی قسم کے کردار سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک سائنس ایجنسی سے ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد تفتیش میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں قتل کے محرکات اور واقعے میں ملوث افراد کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔



















































