اسلام آباد (نیوز ڈیسک )آج ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب سورج چند لمحوں کے لیے خانہ کعبہ کے بالکل اوپر اپنی مخصوص پوزیشن اختیار کرے گا۔
اس موقع پر دنیا کے مختلف خطوں میں موجود افراد قدرتی انداز میں قبلہ رخ کی درست سمت معلوم کر سکیں گے۔ماہرین فلکیات کے مطابق یہ قدرتی مظہر ہر سال دو مرتبہ رونما ہوتا ہے۔ اس سال سورج مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ پر، جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ پر خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا۔ اس لمحے سورج افق سے 90 درجے کی بلندی پر موجود ہوگا اور اس کا مقام مکہ مکرمہ کے عرض البلد سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوگا۔جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے صدر ماجد ابو زہرہ کے مطابق اس مخصوص وقت میں جن علاقوں سے سورج واضح طور پر نظر آ رہا ہوگا، وہاں سورج کی سمت براہِ راست خانہ کعبہ کی سمت کی نشاندہی کرے گی، جس سے قبلہ کا درست تعین آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے کسی کھلی اور ہموار جگہ پر ایک سیدھی لکڑی، ڈنڈا یا کوئی بھی عمودی چیز نصب کی جائے۔ مقررہ وقت پر بننے والے سائے کی مخالف سمت قبلہ رخ کی درست سمت کی نشاندہی کرے گی، جس سے بغیر کسی جدید آلے کے بھی سمت معلوم کی جا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ خاص طور پر ان ممالک اور علاقوں کے لیے نہایت مفید ہے جو مکہ مکرمہ سے کافی فاصلے پر واقع ہیں، جبکہ مکہ کے قریبی شہروں، جیسے جدہ، میں اس فلکیاتی عمل کو موجودہ قبلہ رخ کی درستگی جانچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ماجد ابو زہرہ کے مطابق یہ ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے، جو سورج کے ظاہری مقام اور مکہ مکرمہ کے عرض البلد میں مطابقت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سائنسی اور فلکیاتی حسابات کی مدد سے قبلہ رخ کی انتہائی درست سمت معلوم کی جا سکتی ہے۔



















































