منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

برانڈڈ ہیڈفونز میں زہریلے کیمیکلز کا انکشاف، نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں

datetime 21  فروری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)ہم روزمرہ زندگی میں ہیڈفونز کو کام کے دوران، تفریح میں، ورزش کے وقت یا ریلیکسیشن کے لیے استعمال کرتے ہیں،

لیکن حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب تمام ہیڈفونز میں انسانی صحت کے لیے خطرناک کیمیکلز موجود ہیں۔ یہ کیمیکلز کینسر، دماغی نشوونما کے مسائل اور مردانہ خصوصیات کی کمزوری جیسے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق سینٹرل یورپی سول سوسائٹی گروپس کے اشتراک سے چلنے والے ٹاکس فری لائف فار آل کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس تحقیق میں بوس، پیناسونک، سامسنگ اور سینیہائزر جیسے بڑے برانڈز کے ہیڈفونز سمیت تمام نمونوں میں نقصان دہ مادے ملے ۔اس پروجیکٹ کی کیمیکل ماہر کارولینا برابکووا کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکلز صرف اضافی اجزا نہیں ہیں بلکہ یہ ہیڈفونز سے ہمارے جسم میں منتقل ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ورزش کے دوران پسینے اور گرمی سے یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔ٹاکس فری کے مطابق 81 ہیڈفونز خرید کر لیبارٹری میں مختلف کیمیکلز کی جانچ کی گئی، جس میں بیس فینول اے (بی پی اے)تقریبا 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا، جبکہ اس کا متبادل بیس فینول ایس (بی پی ایس)تین چوتھائی سے زیادہ نمونوں میں پایا گیا۔یہ کیمیکلز پلاسٹک کو سخت کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور انسانی ہارمونز کے نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مردوں میں نسوانیت، لڑکیوں میں قبل از وقت بلوغت اور کینسر جیسے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ فتھالیٹس جو تولیدی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں، کلورینٹڈ پیرافنز جو جگر اور گردے خراب کرتے ہیں، اور فلیم ریٹارڈنٹس جیسے برومینیٹڈ اور آرگنو فاسفیٹ بھی تھے، اگرچہ زیادہ تر کیمیکلز کم مقدار میں موجود تھے، لیکن روزانہ کا مجموعی اثر صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔سماجی کارکنوں نے اسے مارکیٹ کی ناکامی قرار دیا اور انڈوکرائن ڈس رپٹر کیمیکلز پر پابندی اور مینوفیکچررز سے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ٹاکس فری پروجیکٹ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہیڈفونز کا روزانہ اور طویل عرصے استعمال، جلد کے زریعے کیمیکلز کے انسانی جسم میں داخل ہونے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس سے پہلے اس پروجیکٹ نے بچوں کے ڈمیز اور خواتین کے اندرونی کپڑوں میں بھی بی پی اے اور دیگر کیمیکلز کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، لیکن اب تک بوس، پیناسونک، سامسنگ اور سینیہائزر نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ماہرین کے مطابق مقدار کم ہونے کے باوجود یہ کیمیکلزہیڈفونز کے روزانہ اور طویل عرصے تک استعمال سے کاکٹیل افیکٹ صحت کے سنگین خطرات پیدا کرسکتا ہے، خاص طور پر نوعمر بچوں کے لیے ۔عالمی سطح پراس تحقیق کے بعد کیمیکلز سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے جو کینسر، موٹاپے اور بانجھ پن کی شرح میں اضافے سے جڑے ہو سکتے ہیں، اور ہیڈفونز اب صرف لوازمات نہیں بلکہ روزمرہ ضروریات بن چکے ہیں۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…