اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ناکے پر تعینات پولیس اہلکاروں نے چیکنگ کے بہانے انہیں ہراساں کیا۔
یہ دعویٰ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔خاتون کے مطابق وہ ایک تقریب سے واپس جا رہی تھیں کہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی روک لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے گاڑی کے شیشے سے نامناسب انداز میں جھانکا اور ڈرائیور کو باہر بلا کر نازیبا جملے کہے، جبکہ اردگرد موجود لوگ بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ڈرائیور نے جواب دیا کہ وہ صرف ملازم ہے، جس کے بعد ایک اہلکار گاڑی میں اگلی نشست پر بیٹھ گیا اور کہا کہ وہ خاتون سے بات کرنا چاہتے ہیں اور تلاشی لیں گے۔ خاتون کے مطابق انہوں نے وہیں بات کرنے پر اصرار کیا اور گاڑی آگے بڑھانے کو کہا، مگر انہیں دوبارہ رکنے کا حکم دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ گاڑی سے نیچے اتریں تو اہلکاروں نے پھر تلاشی کا مطالبہ کیا، جس پر انہوں نے اپنے بھائی کو فون کر دیا۔ خاتون نے مزید بتایا کہ بھائی کے پہنچنے سے پہلے ایک اہلکار نے کہا کہ انہیں جانے سے پہلے متعلقہ افسران سے ملنا ہوگا، جبکہ وہاں پولیس وین کے پاس مزید اہلکار بھی موجود تھے۔



















































