اسلام آباد (نیوز ڈیسک)معروف اینکر پرسن اور ٹی وی ہوسٹ اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی پاکستان تحریک انصاف کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ یہ مقصد صرف ایک نئی عوامی تحریک کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ایک حالیہ گفتگو میں اقرار الحسن نے کہا کہ پی ٹی آئی سے آئندہ کئی دہائیوں تک بھی یہ امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ وہ عمران خان کو جیل سے باہر لا سکے۔ ان کے مطابق جس جماعت میں قیادت اور کارکنان ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں اور باہمی الزامات کا ماحول ہو، وہ کسی بڑے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتی۔ اقرار الحسن نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی رہائی ہماری شروع کی جانے والی تحریک کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آزادی دلانے کے لیے ایک نئی، منظم اور حقیقی عوامی جماعت کی ضرورت ہے، جس کا بنیادی ہدف سیاسی انتقام کے کلچر کا خاتمہ اور مستقبل میں اس کی روک تھام ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقام ماضی میں بھی غلط تھا، آج بھی ہے اور آئندہ کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔اقرار الحسن نے مزید کہا کہ اگر مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو عمران خان سمیت ہر سیاسی رہنما کو انتقامی سیاست سے بچانا ہوگا اور اس سوچ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ اقرار الحسن نے حال ہی میں ملکی سیاست میں عملی کردار ادا کرنے اور ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق سیاست میں آنے کا مقصد عوام کو حقیقی اختیارات دینا اور اس وعدہ شدہ نئے پاکستان کی تشکیل ہے جو اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔انہوں نے جماعت کا نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ ان کی نئی سیاسی جماعت 15 جنوری 2026 کو باضابطہ طور پر متعارف کروائی جائے گی، جس کے بعد عام انتخابات کی بھرپور تیاری کا آغاز کیا جائے گا۔















































