بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

شادی کی پارٹی کا تو سنا تھا مگر یہ طلاق پارٹی کیا ہوتی ہے؟ کیا یہ ایک کاروبار بننے والا ہے؟

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لاس ویگاس: ایک دردناک طلاق کے قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد امریکی خاتون وینڈی لوئس نے فیصلہ کیا کہ اس خوشی کو منانے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ اپنے جوڑے کو گولیوں سے چھلنی کر دے جو اس نے شادی کے دن پہنا تھا۔

یہ کام کرنے کے لیے وینڈی نے اپنی سہیلیوں کو اکٹھا کیا اپنا عروسی کا سفید جوڑا اٹھایا اور اگلی پرواز پر سوار ہو کر چار دنوں کی چھٹی منانے ریاست نویڈا کے مشہور شہر لاس ویگاس پہنچ گئیں۔ خواتین کے اس گروپ کے لاس ویگاس پہنچنے کے بعد ان کے ’’شوٹنگ رینج‘‘ پہنچنے کے انتظامات مکمل کرنے میں شہر کی ایک چھوٹی سی کمپنی نے زیادہ وقت نہیں لیا۔ یہ کمپنی لاس ویگاس میں تیزی سے پھیلتے ہوئے اس کاروبار کا حصہ ہے جس میں کمپنیاں اپنے صارفین کے لیے ’’طلاق پارٹیاں‘‘ منعقد کرنے کا کام کرتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ لاس ویگاس کی کہانیاں لوگ اسی شہر میں چھوڑ آتے ہیں تاہم وینڈی لوئس کی طلاق پارٹی کا اہتمام کرنے والی 51 سالہ گلنڈا روڈز نے بخوشی یہ کہانی میڈیا کو سنائی۔ امریکا میں شادیوں اور طلاقوں کے مختلف اعداد و شمار پائے جاتے ہیں تاہم زیادہ تر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آج کل امریکا میں آدھی شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گلنڈا کا طلاق پارٹیوں کا کاروبار روز بروز ترقی کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…